Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جنوری 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر
    • پی ٹی آئی کی ’’ منظم کارروائیاں ‘‘
    • پاکستان کے خلاف غیر ملکی پروپیگنڈے کا مہرہ، میر یار بلوچ
    • صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر
    • تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف
    • پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس
    • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر
    • چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ
    اہم خبریں

    سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ

    اگست 3, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت میں وکیل اعتزاز احسن نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہیے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہریار آفریدی سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی غیر قانونی قرار، رہائی کا حکم
    Next Article شاہد خاقان، حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد نگران وزیراعظم کے امیدوار
    Web Desk

    Related Posts

    قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026

    پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس

    جنوری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر

    جنوری 20, 2026

    پی ٹی آئی کی ’’ منظم کارروائیاں ‘‘

    جنوری 20, 2026

    پاکستان کے خلاف غیر ملکی پروپیگنڈے کا مہرہ، میر یار بلوچ

    جنوری 20, 2026

    صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.