Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مارچ 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چین کے سفیر کی ملاقات ،علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
    • سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکی سفارتخانے کی پاکستان میں ضروری خدمات معطل
    • امریکہ ایران جنگ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی مندی
    • کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ
    • اظہار بوبی کا ڈرامہ سیریل "زنزیرونہ” پاکستان اور دنیا بھر میں مقبول
    • ماہ رمضان میں ناجائز منافع خوری، پشاور کی عوام کا ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن کا مطالبہ
    • خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ
    اہم خبریں

    سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، سپریم کورٹ

    اگست 3, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

     اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت میں وکیل اعتزاز احسن نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہیے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشہریار آفریدی سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی غیر قانونی قرار، رہائی کا حکم
    Next Article شاہد خاقان، حفیظ شیخ، اسلم بھوتانی اور فواد حسن فواد نگران وزیراعظم کے امیدوار
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت

    مارچ 2, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چین کے سفیر کی ملاقات ،علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    مارچ 2, 2026

    سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکی سفارتخانے کی پاکستان میں ضروری خدمات معطل

    مارچ 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت

    مارچ 2, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چین کے سفیر کی ملاقات ،علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    مارچ 2, 2026

    سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکی سفارتخانے کی پاکستان میں ضروری خدمات معطل

    مارچ 2, 2026

    امریکہ ایران جنگ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی مندی

    مارچ 2, 2026

    کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ

    مارچ 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.