Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ہائیڈروجن ٹرینیں ایک نئی امید
    بلاگ مارچ 22, 2026

    ہائیڈروجن ٹرینیں ایک نئی امید

    Facebook Twitter Email
    Hydrogen trains a new hope
    تبدیلی ہمیشہ خاموشی سے آتی ہے، نہ اس کے شور ہوتے ہیں، نہ نعرے، جیسے موبائل فون آیا اور سب کچھ بدل گیا، جیسے انٹرنیٹ آیا اور دنیا سمٹ گئی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا اس وقت ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے, ایک طرف ترقی کی دوڑ ہے، رفتار ہے، معیشت کا دباؤ ہے اور دوسری طرف وہی ترقی زمین کے درجہ حرارت کو اس نہج پر لے آئی ہے جہاں موسم بھی اب خبر بن چکا ہے، بارشیں بے وقت، گرمی بے رحم اور سردی بے ترتیب ہو چکی ہے، ایسے میں جاپان کی ہائیڈروجن ٹرین HYBARI صرف ایک ٹرین نہیں، ایک سوچ ہے، ایک پیغام ہے کہ اگر انسان چاہے تو وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ بھی خود کر سکتا ہے ۔

    ہم نے ترقی کے نام پر ڈیزل جلایا، کوئلہ جلایا، فضا کو دھوئیں سے بھر دیا، ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ یہ دھواں آخر کہاں جائے گا؟ وہی دھواں آج ہمارے سروں پر بادل بن کر منڈلا رہا ہے، لیکن یہ بارش کے بادل نہیں، یہ گرمی کے بادل ہیں، سائنس اسے Global Warming کہتی ہے اور ہم اسے بدلتا ہوا موسم کہتے ہیں ۔

    یہاں جاپان نے ایک مختلف راستہ چنا، اس نے کہا کہ ٹرین چلے گی، لیکن دھواں نہیں نکلے گا، توانائی بنے گی، لیکن زمین کو نقصان نہیں ہوگا، یہی وہ مقام ہے جہاں Fuel Cell ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے، ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملایا جاتا ہے، بجلی پیدا ہوتی ہے اور نتیجے میں صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں،  نہ شور، نہ دھواں، نہ زہر،  یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی گاڑی ہو جو سانس بھی لے اور فضا کو صاف بھی کرے ۔

    یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے، اگر ٹرین سے پانی نکل رہا ہے تو کیا یہ بارش بڑھا دے گی؟ بظاہر سوال سادہ ہے لیکن اس کے پیچھے ایک خوف چھپا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ بخارات اتنے کم ہوتے ہیں کہ فضا کے وسیع نظام میں ان کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی، اصل مسئلہ بخارات نہیں، وہ گیسیں ہیں جو ہم صدیوں سے چھوڑ رہے ہیں، جنہیں سائنس Greenhouse Gas کہتی ہے ۔ یہی گیسیں زمین کو ایک بند کمرے کی طرح گرم کر دیتی ہیں، اگر ہم ان کو کم کر دیں تو بارشیں خود بخود اپنے نظام پر واپس آنا شروع ہو جائیں گی ۔

    پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ہر نئی ٹیکنالوجی کو پہلے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ ٹرین سردی میں کیسے چلے گی؟ اگر پانی جم گیا تو؟ لیکن یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سائنس پہلے ہی دے چکی ہے۔ جدید ٹرینوں میں ہیٹنگ سسٹم موجود ہوتے ہیں، پائپوں کو گرم رکھا جاتا ہے اور ہائیڈروجن خود ایسی گیس ہے جو شدید سردی میں بھی اپنا کام جاری رکھتی ہے، یعنی جہاں ڈیزل ہار مان لیتا ہے، وہاں یہ ٹیکنالوجی کھڑی رہتی ہے ۔

    پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کے پاس دنیا کے بڑے ریلوے نیٹ ورکس ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر آج بھی ڈیزل پر چل رہے ہیں، ہم ہر سال اربوں روپے کا ایندھن جلاتے ہیں، شہروں کو دھوئیں سے بھرتے ہیں اور پھر ہسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد پر حیران ہوتے ہیں، اگر ہم چاہیں تو بغیر پورا نظام بدلے، صرف انجن بدل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں، نہ ہمیں ہر جگہ بجلی کی تاریں بچھانی ہوں گی، نہ بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی، چند ہائیڈروجن سٹیشنز اور ایک واضح پالیسی، اور کھیل بدل سکتا ہے ۔

    دنیا میں تبدیلی ہمیشہ خاموشی سے آتی ہے، نہ اس کے شور ہوتے ہیں، نہ نعرے، جیسے موبائل فون آیا اور سب کچھ بدل گیا، جیسے انٹرنیٹ آیا اور دنیا سمٹ گئی، ویسے ہی ہائیڈروجن ٹرین بھی آہستہ آہستہ ہمارے نظام کا حصہ بن جائے گی، سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا ہمیشہ کی طرح دیر سے جاگیں گے ۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں، یہ دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی اس دروازے پر کھڑی ایک امید ہے، ایک ایسا راستہ جہاں ترقی بھی ہے اور تحفظ بھی، جہاں رفتار بھی ہے اور ذمہ داری بھی ۔

    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،  ہم دھوئیں کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا بھاپ کے ساتھ۔ !

    train uses a fuel cell system where hydrogen reacts with oxygen to generate electricity
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتوانائی بحران کے باعث پی ایس ایل میچز بغیر تماشائیوں کے کرانے کا اعلان، افتتاحی تقریب بھی منسوخ
    Next Article ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم شہبازشریف
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.