Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ہائیڈروجن ٹرینیں ایک نئی امید
    بلاگ مارچ 22, 2026

    ہائیڈروجن ٹرینیں ایک نئی امید

    Facebook Twitter Email
    Hydrogen trains a new hope
    تبدیلی ہمیشہ خاموشی سے آتی ہے، نہ اس کے شور ہوتے ہیں، نہ نعرے، جیسے موبائل فون آیا اور سب کچھ بدل گیا، جیسے انٹرنیٹ آیا اور دنیا سمٹ گئی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا اس وقت ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے, ایک طرف ترقی کی دوڑ ہے، رفتار ہے، معیشت کا دباؤ ہے اور دوسری طرف وہی ترقی زمین کے درجہ حرارت کو اس نہج پر لے آئی ہے جہاں موسم بھی اب خبر بن چکا ہے، بارشیں بے وقت، گرمی بے رحم اور سردی بے ترتیب ہو چکی ہے، ایسے میں جاپان کی ہائیڈروجن ٹرین HYBARI صرف ایک ٹرین نہیں، ایک سوچ ہے، ایک پیغام ہے کہ اگر انسان چاہے تو وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ بھی خود کر سکتا ہے ۔

    ہم نے ترقی کے نام پر ڈیزل جلایا، کوئلہ جلایا، فضا کو دھوئیں سے بھر دیا، ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ یہ دھواں آخر کہاں جائے گا؟ وہی دھواں آج ہمارے سروں پر بادل بن کر منڈلا رہا ہے، لیکن یہ بارش کے بادل نہیں، یہ گرمی کے بادل ہیں، سائنس اسے Global Warming کہتی ہے اور ہم اسے بدلتا ہوا موسم کہتے ہیں ۔

    یہاں جاپان نے ایک مختلف راستہ چنا، اس نے کہا کہ ٹرین چلے گی، لیکن دھواں نہیں نکلے گا، توانائی بنے گی، لیکن زمین کو نقصان نہیں ہوگا، یہی وہ مقام ہے جہاں Fuel Cell ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے، ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملایا جاتا ہے، بجلی پیدا ہوتی ہے اور نتیجے میں صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں،  نہ شور، نہ دھواں، نہ زہر،  یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی گاڑی ہو جو سانس بھی لے اور فضا کو صاف بھی کرے ۔

    یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے، اگر ٹرین سے پانی نکل رہا ہے تو کیا یہ بارش بڑھا دے گی؟ بظاہر سوال سادہ ہے لیکن اس کے پیچھے ایک خوف چھپا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ بخارات اتنے کم ہوتے ہیں کہ فضا کے وسیع نظام میں ان کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی، اصل مسئلہ بخارات نہیں، وہ گیسیں ہیں جو ہم صدیوں سے چھوڑ رہے ہیں، جنہیں سائنس Greenhouse Gas کہتی ہے ۔ یہی گیسیں زمین کو ایک بند کمرے کی طرح گرم کر دیتی ہیں، اگر ہم ان کو کم کر دیں تو بارشیں خود بخود اپنے نظام پر واپس آنا شروع ہو جائیں گی ۔

    پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ہر نئی ٹیکنالوجی کو پہلے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ ٹرین سردی میں کیسے چلے گی؟ اگر پانی جم گیا تو؟ لیکن یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سائنس پہلے ہی دے چکی ہے۔ جدید ٹرینوں میں ہیٹنگ سسٹم موجود ہوتے ہیں، پائپوں کو گرم رکھا جاتا ہے اور ہائیڈروجن خود ایسی گیس ہے جو شدید سردی میں بھی اپنا کام جاری رکھتی ہے، یعنی جہاں ڈیزل ہار مان لیتا ہے، وہاں یہ ٹیکنالوجی کھڑی رہتی ہے ۔

    پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کے پاس دنیا کے بڑے ریلوے نیٹ ورکس ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر آج بھی ڈیزل پر چل رہے ہیں، ہم ہر سال اربوں روپے کا ایندھن جلاتے ہیں، شہروں کو دھوئیں سے بھرتے ہیں اور پھر ہسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد پر حیران ہوتے ہیں، اگر ہم چاہیں تو بغیر پورا نظام بدلے، صرف انجن بدل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں، نہ ہمیں ہر جگہ بجلی کی تاریں بچھانی ہوں گی، نہ بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی، چند ہائیڈروجن سٹیشنز اور ایک واضح پالیسی، اور کھیل بدل سکتا ہے ۔

    دنیا میں تبدیلی ہمیشہ خاموشی سے آتی ہے، نہ اس کے شور ہوتے ہیں، نہ نعرے، جیسے موبائل فون آیا اور سب کچھ بدل گیا، جیسے انٹرنیٹ آیا اور دنیا سمٹ گئی، ویسے ہی ہائیڈروجن ٹرین بھی آہستہ آہستہ ہمارے نظام کا حصہ بن جائے گی، سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا ہمیشہ کی طرح دیر سے جاگیں گے ۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں، یہ دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی اس دروازے پر کھڑی ایک امید ہے، ایک ایسا راستہ جہاں ترقی بھی ہے اور تحفظ بھی، جہاں رفتار بھی ہے اور ذمہ داری بھی ۔

    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،  ہم دھوئیں کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا بھاپ کے ساتھ۔ !

    train uses a fuel cell system where hydrogen reacts with oxygen to generate electricity
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتوانائی بحران کے باعث پی ایس ایل میچز بغیر تماشائیوں کے کرانے کا اعلان، افتتاحی تقریب بھی منسوخ
    Next Article ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم شہبازشریف
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.