پشاور( حسن علی شاہ سے ) حکومت اور اپوزیشن نے ذاتی مفاد کی غرض سے ملکر ایک بل تیار کیا ھے جس میں یہ تجویز پیش کی گئی ھے کہ مہنگائ کے تناسب سے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور الائنس میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بہ آسانی سینٹ سے بھی پاس کرایا جانا یقینی ھے اس ضمن میں اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کے مابین اتفاق رائے پایا جاتا ھے اس وقت رکن پارلیمنٹ کی موجودہ تنخواہ 168000 ایک لاکھ اڑسٹھ روپے ھے یہ بھی بتایا گیا ھے کہ سپیکر کی تنخواہ 1500000 پندرہ لاکھ تجویز کی گئ ھے حیرانگی کی بات یہ ھے کہ حکومت ایک جانب آئ ایم ایف کی ھدایات پر سخت ترین فیصلے کرکے بجلی گیس پٹرول ڈیزل مٹی کا تیل ادوایات روزمرہ آشیانے خوردنی پراپرٹی ٹیکس مختلف سرکاری محکموں میں ڈاؤن سائزنگ۔ پنشن کا خاتمہ ۔قومی بچت کی اسکیموں میں شرح منافع میں کمی فکس ڈیپازٹ پر منافع میں کمی سیلز ٹیکس امپورٹ ایکسپورٹ میں ٹیکسز میں ناقابل برداشت اضافہ دوسری جانب مہنگائ کے تناسب میں برق رفتاری سے اضافہ نوکر پیشہ اور متوسط طبقے کیلئے وبال جان بن گیا ھے ھرسال قومی بجٹ میں جس تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کیا جاتا ھے اگر اسکا مواخذہ ارکان پالیمنٹ کے تجویز کردہ بل سے کیا جائے تو یہ سراسر قومی خزانے پہ ایک اضافی اور نامناسب بوجھ ھوگا اور ھر خاص وعام کا شدید ردعمل بھی سامنے آنا خارج ازامکان نہیں ۔
جمعرات, جون 4, 2026
بریکنگ نیوز
- پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب
- گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات
- آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
- بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
- فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
- برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
- سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
- نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد

