Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 31, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    • مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » طالبان حکومت میں افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل
    افغانستان اپریل 27, 2024

    طالبان حکومت میں افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    Facebook Twitter Email
    Serious violations of human rights are being committed on Afghan soil under the Taliban regime
    Share
    Facebook Twitter Email

    طالبان کی حکومت میں افغان سرزمین پر انسانی حقوق کی سنگین قسم کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کےبعد سے افغانستان مختلف شعبے تباہی کا شکار ہیں اور افغان طالبان کی انتہاء پسندانہ پالیسی اور سخت پابندیوں نےافغان عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔

    طالبان حکومت نےاقتدارپرقبضے کےبعد افغانستان کو کنٹرول کرنے  کے لئے انتہاء پسندانہ طریقہ کارکو اپنایا ہے نتیجتاً افغانستان کومختلف قدرتی آفات بشمول سیلاب، زلزلے اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سال 2024ء کی رپورٹ کےمطابق افغان سرزمین پر 2022ء میں امداد کےمستحق افراد کی تعداد 18.4 ملین تھی جو اب بڑھ کر 18.4 ملین سے تقریباً 29 ملین ہو چکی ہے۔وسائل کی کمی کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے غذا کی قلت اور شدید قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

    افغان طالبان نےخواتین پرمختلف قسم کی سخت پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں،ملازمت کرنا، تعلیم،اکیلے سفر کرنا اوردیگر معاشرتی سرگرمیوں پرپابندی کے باعث افغان خواتین کی آبادی کا بڑا حصہ شدید متاثر ہے۔

    افغان سرزمین میں رہنے والے ہزارہ، ازبک اورتاجک قبائل کو نسلی،لسانی اورمذہبی امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔سال 2023ء  افغانستان کے صوبہ اورزگان میں 6 افراد کومذہبی انتہاء پسندی کا نشانہ بناتے ہوئے انتہائی بے دردی سے قتل کیاگیا۔

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن  نے اگست 2021 سے مئی 2023 کے درمیان 3,774 شہری ہلاکتیں ریکارڈ کیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022 اور جولائی 2023 کے درمیان تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے تقریباً 1600 واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    نومبر 2022 سے اپریل 2023 کے درمیان 274 مرد اور 58 خواتین کو سرعام کوڑوں کی سزا سنائی گئی جو افغان طالبان کی انتہاء پسند پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔افغانستان میں شیعہ، سکھ، ہندو، عیسائی اور اسماعیلی سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو بھی مسلسل تعصب اور نسلی امتیاز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔افغان طالبان نے آزادی اظہار اور شعبہ صحافت کو بھی اپنے تعصب کی لپیٹ لیتے ہوئے طالبان حکومت پر تنقید کرنے والے درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا اور ساتھ ہی ان کو ہراسگی کا شکار بھی بنایا گیا۔

    سال 2021 سے 2023 کے درمیان 64 صحافیوں کو طالبان حکومت نے حراست میں لیا جبکہ طالبان حکومت کی بڑھتی پابندیوں کی وجہ سے 80 فیصد سے زائد خواتین شعبہ صحافت چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔اگست 2021 سےاگست 2023 کے درمیان نصف سےزائد رجسٹرڈ میڈیا ہاؤسز کوافغانستان میں مکمل طور پر غیر فعال کرا دیا گیا۔عوام کو افغانستان میں ہر طرح کےجبرو تشدد کا سامناہے جبکہ انصاف کا ملنا بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ طالبان حکومت اپنی عوام کا فائدہ سوچنے کی بجائے  ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کو تعاون مہیا کرکے علاقے میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدرگئی:رکشہ اور موٹر سائیکل کے تصادم کے باعث نوجوان جاں بحق
    Next Article ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ایک اور عالمی ریکارڈ بن گیا
    Mahnoor

    Related Posts

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.