Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد
    • ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی
    • اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟
    • اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر
    • تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟
    • اسلام آباد میں دھماکہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت ہو گئی، تعلق پشاور سے تھا
    • پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا
    • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، 31افراد شہید، 169 زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان حکومت نے پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کےدرمیان دوبارہ مذاکرات کیلئے حامی بھرلی
    افغانستان

    افغان حکومت نے پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کےدرمیان دوبارہ مذاکرات کیلئے حامی بھرلی

    اگست 16, 2024Updated:اگست 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    We can mediate between Pakistan and TTP again: Zabihullah Mujahid
    We can mediate between Pakistan and TTP again: Zabihullah Mujahid
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان  اور پاکستانی حکومت کے درمیان مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کہتے ہیں کہ اگر اسلام آبادچاہے تو امارت اسلامی دونوں فریقوں کےدرمیان ثالثی کی کوشش کرسکتی ہے۔

    غير ملکی خبر ایجنسی پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ بھائی چارے کے تعلقات رکھیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ ہماری زبان ایک ہے۔ مذہب ایک ہے اور دو طرفہ تجارتی تعلقات ہیں۔ ایک کلچر بھی ہے اور اتنی زیادہ چیزیں مشترک ہیں کہ دوسرے کسی ملک کے ساتھ افغانستان کی نہیں ہیں اور اسی وجہ سے ہم بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ  اچھے تعلقات ہماری اور پاکستان کی ضرورت ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا بھی افغان عوام کے ساتھ بھائی چارے اور اخوت کا تعلق ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ  افسوس یہ ہے کہ بعض اقدامات جو پاکستان میں ہو رہے ہیں جیسے ٹی ٹی پی کا مسئلہ، جو پچھلے 20 سال سے ہے اور ٹی ٹی پی نے پاکستان میں جنگ کی ہے اور ان کے خلاف آپریشن ہوئے، جن میں ضرب عضب وغیرہ شامل ہیں، جو پاکستان نے کیے ہیں۔ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور کارروائیوں میں کمی یا زیادتی ٹی ٹی پی کے لوگوں کے ساتھ جڑی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ  افسوس یہ بھی  ہے کہ ہر کارروائی کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہرایا جاتا ہے، جس سے بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے امن قائم کرنے پر توجہ دیں۔ پولیس، انٹیلی جنس ادارے امن کے قیام پر توجہ دیں۔ بنوں یا کسی دوسرے علاقے میں کارروائی کا ذمہ دار افغانستان کو کیوں ٹھہرایا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ افغانستان سے کسی دوسرے ملک میں جنگ کرے۔ ہم جنگ کو پسند نہیں کرتے اور کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ افغان سر زمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف  استعمال ہو۔

    اگر پاکستان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ ہمارے ساتھ شیئر کرے کہ کہاں پر انہیں افغانستان سے مسئلہ ہے، لیکن میڈیا پر الزامات لگانا عوام کے مابین نفرتیں پھیلاتا ہے اور اس سے بے اعتمادی کی فضا قائم ہوتی ہے اور اس میں نقصان ہے کیونکہ ہم پاکستان سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ جب افغانستان میں طالبان کی حاکمیت قائم ہوئی تو سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ غیر ملکی افواج نکل گئیں اور دوسرا یہ کہ افغانستان میں امن قائم ہوا اور تیسرا افغانستان میں ایک واحد حکومت بنی، جس میں اختلافات نہیں ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ منشیات کے خاتمے اور اقتصاد میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے۔ پانچواں افغانستان کی زمین محفوظ ہوئی اور ماضی کی طرح مسائل ختم ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایوں، اسلامی اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ البتہ یورپ اور امریکہ جیسے ممالک جو 20 سال تک ہمارے ساتھ جنگ لڑتے رہے، ہو سکتا ہے وہ کچھ کینہ اور بغض رکھتے ہوں، لیکن وہ مسئلہ بھی آہستہ آہستہ حل ہو جائے گا اور بہت حد تک یہ حل ہوا بھی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور:ورسک روڈ پربارودی مواد کا دھماکہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی
    Next Article ڈپٹی چیرمین سینٹ سیدال خان ناصر کی خیبرنیٹ ورک کوئٹہ سینٹر آمد
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد

    فروری 7, 2026

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر

    فروری 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایک دن، تین منظرنامے: پاکستان کی مسلسل جدوجہد

    فروری 7, 2026

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی کامیابی، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست دیدی

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد میں نمازیوں پر حملہ: مسئلہ کہاں ہے؟

    فروری 7, 2026

    اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر

    فروری 7, 2026

    تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟

    فروری 6, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.