Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت لویہ جرگہ،امن کی بحالی کیلئے وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ
    • آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ
    • پاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم
    • پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ
    • قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف
    • خیبر ٹیلی ویژن نیٹ ورک دینی و ثقافتی پروگراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانے میں پیش پیش
    • فحش مواد نے پشتون ثقافت کی اصل پہچان کو نقصان پہنچایا: نجیب اللہ انجم
    • خیبر ٹیلی ویژن کا مقبول شو “پخیر راغلے” ناظرین کی توجہ کا مرکز
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟
    بلاگ

    تحریکِ انصاف کی سیاست یا قومی سلامتی؟

    فروری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Tehreek-e-Insaf politics or national security
    اسلام آباد جیسے سانحات ہمیں یاد دلاتے رہیں گے کہ اصل خطرہ صرف خودکش بمبار نہیں، بلکہ وہ سیاست ہے جو ریاست کو کمزور کر دے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی سوچ کا نتیجہ بھی ہے جس نے قومی سلامتی کو سنجیدہ ریاستی معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے نعرے، جذبات اور ووٹ بینک کی بھینٹ چڑھا دیا، دارالحکومت میں دھماکہ اس بات کا اعلان ہے کہ دہشت گردی واپس نہیں آئی،  بلکہ تحریک انصاف کی ناکام پالیسیوں کے باعث اسے واپس لاکر ملک و قوم پر دوبارہ مسلط کیا گیا ۔

    تحریکِ انصاف اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی کہ اس کے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کی حکومت کا  بیانیہ شدید ابہام کا شکار رہا۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ملک محفوظ ہو چکا ہے، دوسری جانب شدت پسند عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھا گیا ۔

    دہشت گردوں کو کبھی ’’ناراض پاکستانی‘‘کہا گیا، کبھی انہیں مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا جواز پیدا کیا گیا۔ یہ پالیسی نہیں تھی، یہ قومی سلامتی کے ساتھ کھلا مذاق تھا جس کا خمیازہ آج پورا ملک بھگت رہا ہے ۔

    تحریکِ انصاف نے اقتدار میں رہتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کر دیا۔  نفرت انگیز تقاریر پر پابندی اور  دہشت گردوں کی مالی معاونت کا خاتمہ ،یہ سب صرف تقریروں تک محدود رہا، عملی طور پر نہ صرف ریاست کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں بلکہ اپنی انہیں کوششوں کو بیانیے کی شکل دیگر نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی،انہی پالیسیوں اور بیانئے کے باعث  شدت پسندوں کو یہ پیغام ملا کہ فیصلہ سازی میں کمزوری اور انتشار موجود ہے ۔

    اس سے بھی زیادہ خطرناک رویہ تحریکِ انصاف کی وہ سیاست رہی جس میں ریاستی اداروں کو مسلسل متنازع بنایا گیا۔ جب اداروں پر عدم اعتماد کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے تو اس کا فائدہ اپوزیشن کو نہیں، دہشت گردوں کو ہوتا ہے۔ اداروں کی ساکھ پر حملے، فیصلوں کو مشکوک بنانا، اور ہر سانحے کو سازش قرار دینا،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں دہشت گرد آسانی سے وار کرتے ہیں ۔

    اسلام آباد کا خودکش حملہ دراصل اس بیانیے کی لاش پر ہونے والا دھماکہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا رہا کہ صرف نیت صاف ہو تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ قومی سلامتی نیت سے نہیں، واضح پالیسی، مستقل عمل اور غیر مبہم مؤقف سے محفوظ ہوتی ہےاور تحریکِ انصاف ان تینوں محاذوں پر ناکام نظر آتی ہے ۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد تحریکِ انصاف نے قومی یکجہتی کے بجائے مسلسل انتشار کو فروغ دیا۔ لانگ مارچ، اداروں سے تصادم اور ریاستی نظام کو یرغمال بنانے کی سیاست نے سکیورٹی فوکس کو بری طرح متاثر کیا۔ جب ریاست اندرونی محاذ پر لڑ رہی ہو تو بیرونی اور اندرونی دشمن دونوں مضبوط ہو جاتے ہیں ۔

    اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا تحریکِ انصاف کبھی اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ جذباتی سیاست، مبہم بیانیہ اور سکیورٹی معاملات پر غیر سنجیدہ رویہ قومی جرم کے مترادف ہے؟ یا پھر ہر لاش پر بھی وہی سیاسی بیانیہ دہرایا جائے گا؟

    یہ سانحہ ہمیں بتاتا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ ٹوئٹس، جلسوں اور الزامات سے نہیں ہوتا۔ جو جماعت اقتدار میں رہ چکی ہو، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے۔ مگر تحریکِ انصاف آج بھی خود احتسابی کے بجائے خود کو مظلوم ثابت کرنے میں مصروف ہےاور یہی رویہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرتا ہے ۔

    کیا تحریکِ انصاف قومی سلامتی کو واقعی سنجیدہ مسئلہ سمجھتی ہے؟ یا یہ بھی اس کے لیے محض ایک سیاسی ہتھیار ہے؟

    جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں دیا جاتا، اسلام آباد جیسے سانحات ہمیں یاد دلاتے رہیں گے کہ اصل خطرہ صرف خودکش بمبار نہیں، بلکہ وہ سیاست ہے جو ریاست کو کمزور کر دے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسلام آباد میں دھماکہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت ہو گئی، تعلق پشاور سے تھا
    Next Article اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماوں کا اظہار یکجہتی، وزیراعظم شہبازشریف کا اظہار تشکر
    webdesk

    Related Posts

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت لویہ جرگہ،امن کی بحالی کیلئے وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ

    مئی 2, 2026

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم

    مئی 2, 2026

    پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ

    مئی 2, 2026

    قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف

    مئی 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.