Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مئی 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک
    • بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم
    • معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
    • آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات، بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال
    • ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی
    • سوات کے سیلاب متاثرین سڑکوں پر،8 ماہ بعد بھی امدادی رقم نہیں ملی
    • پاکستان نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی میڈیا کی خبر کو گمراہ کن قرار دیدیا
    • وزیر اعظم شہباز شریف کی سیکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانے کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    حالیہ ہفتوں میں خیبر پختونخوا ایک بار پھر خون، خوف اور بے یقینی کے اسی ہولناک بھنور میں گھرتا دکھائی دے رہا ہے جس نے چند برس قبل پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز، سیاسی شخصیات، قبائلی عمائدین اور عام شہریوں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ چارسدہ میں مولانا ادریس کے قتل نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ اب کوئی بھی محفوظ نہیں رہا—نہ محراب و منبر، نہ ایوانِ اقتدار اور نہ ہی گلی کوچے۔ شمالی و جنوبی وزیرستان، باجوڑ، ہنگو، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع مسلسل گھات لگا کر حملوں، خودکش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی تنصیبات پر یلغار کی زد میں ہیں۔ بنوں میں پولیس پر حالیہ مہلک حملہ اور لکی مروت میں دہشت گردوں کی منظم کارروائیاں اس تلخ حقیقت کی تازہ یاد دہانی ہیں کہ شدت پسند نیٹ ورکس نہ صرف منظم اور فعال ہیں بلکہ وہ جب چاہیں حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    مالاکنڈ ڈویژن، جسے کبھی فوجی آپریشن کے بعد کامیاب “ڈی ریڈیکلائزیشن” کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا تھا، وہاں ایک بار پھر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مردان، پشاور اور کوہاٹ جیسے نسبتاً پرامن اضلاع بھی اب محفوظ نہیں رہے۔ گویا دہشت گردی ایک بار پھر بتدریج ان علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے جنہیں چند برس قبل “کلیئر” قرار دیا جا چکا تھا۔

    سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ 2025 کے اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 2024 میں 2,555 سے بڑھ کر 2025 میں 3,417 تک جا پہنچی، یعنی صرف ایک سال میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان ہلاکتوں کا سب سے بڑا بوجھ خیبر پختونخوا نے اٹھایا، جہاں اموات کی تعداد 1,620 سے بڑھ کر 2,331 ہو گئی۔ گویا ملک میں دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا مرکز عملاً یہی صوبہ بن چکا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 نے بھی اس تلخ حقیقت کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو پہلی بار دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا ہے۔ یہ کسی بھی ریاست کے لیے ایک سنگین لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے کہ اس کے شہریوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ کیوں ہو چکے ہیں۔

    یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ سب کچھ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط بڑے فوجی آپریشنز—راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد وغیرہ—کے باوجود ہو رہا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ اور ان کے نیٹ ورکس کو توڑنا تھا۔ ان فوجی آپریشنز پر کھربوں روپے خرچ ہوئے، لاکھوں افراد اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر بے گھر ہوئے اور ہزاروں جوانوں و شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ مگر ان تمام قربانیوں کے باوجود خیبر پختونخوا آج ایک بار پھر اسی خوفناک دائرے میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے جس سے نکلنے کے لیے ہزاروں جانیں قربان کی گئی تھیں۔ بڑھتی ہوئی بدامنی نے مقامی آبادی کو غصے، مایوسی اور شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر دہشت گرد واقعی ختم ہو چکے تھے تو وہ دوبارہ اتنی آسانی سے کیسے واپس آ گئے، اور اگر واپس آ سکتے تھے تو پھر اتنے بڑے آپریشنز اور قربانیوں کا حاصل کیا تھا؟ کیا ان کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ہم صرف شاخیں کاٹتے رہے، یا پھر ان کی واپسی غلط فیصلوں اور متضاد پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟

    خیبر پختونخوا میں عوامی بے چینی اب ڈرائنگ رومز کی بحث سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ برس وزیرستان اور باجوڑ سے لے کر دیر، سوات اور بنوں تک احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور امن مارچ اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگ اب صرف اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانے کے لیے نہیں بلکہ ریاست سے جواب مانگنے کے لیے بھی نکل رہے ہیں۔ قبائلی مشران، نوجوان، سیاسی کارکنان، سول سوسائٹی کے افراد، حتیٰ کہ صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بھی اب کھل کر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر بار بار کے فوجی آپریشنز کے باوجود پائیدار امن کیوں خواب بن چکا ہے؟ صوبے میں احتجاجی مظاہروں میں اٹھنے والے نعرے اور تقاریر اس سنگین اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتے ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔

    لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ محسوس کرتی ہے کہ انہیں ایک جغرافیائی و سیاسی کھیل میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بداعتمادی اور احساسِ محرومی مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی، بھی حالیہ تقاریر میں صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو “ڈالر کی جنگ” قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ پشتونوں کو قربانی کا بکرا بنا کر دہشت گردی کے نام پر عالمی طاقتوں سے مالی فوائد حاصل کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ اس جنگ کی اصل قیمت یہاں کے عوام اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔

    باجوڑ میں مولانا خان زیب، چارسدہ میں مولانا ادریس، اور دیگر سماجی و سیاسی شخصیات کا قتل اس سنگین صورتحال کو مزید دردناک بنا دیتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے بھر میں سینکڑوں سیاسی کارکن، قبائلی مشران، صحافی، سماجی رہنما اور امن کے داعی قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف پورے خطے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہیں بلکہ انہوں نے یہ حقیقت بھی آشکار کر دی ہے کہ امن، جمہوریت، مکالمے اور بقائے باہمی کی بات کرنے والے لوگ اس معاشرے میں کس قدر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ آج شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھانا خود ایک خطرناک اور جان لیوا عمل بنتا جا رہا ہے۔

    صوبے کی پولیس فورس، جو پہلے ہی وسائل کی کمی اور مسلسل سیاسی مداخلت کا شکار رہی ہے، ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہی ہے۔ درجنوں پولیس اہلکار اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں نہ مطلوبہ جدید اسلحہ میسر ہے اور نہ ہی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کوئی واضح حکمت عملی۔ جب تھانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے ہوتے ہیں تو پولیس کے پاس مزاحمت کے لیے پرانے ہتھیار اور محدود نفری ہوتی ہے۔ جس پولیس فورس کو دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہونا چاہیے تھا، آج وہی خود کو وسائل، حکمتِ عملی اور سیاسی پشت پناہی سے محروم محسوس کر رہی ہے۔

    ریاستی پالیسی کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ وقتی حل تلاش کیے۔ ہم نے دہشت گردی کو ایک فکری، سماجی اور سیاسی مسئلہ سمجھنے کے بجائے محض ایک سیکیورٹی چیلنج تصور کیا، اور اس کا حل صرف بندوق اور فوجی طاقت میں تلاش کرتے رہے۔ فوجی آپریشنز اپنی جگہ ناگزیر ہو سکتے ہیں، مگر انہیں کبھی مؤثر سیاسی اور سماجی اصلاحات کے ساتھ نہیں جوڑا گیا۔ خیبر پختونخوا میں بارہ برس تک برسراقتدار رہنے والی پاکستان تحریک انصاف بھی اس ذمہ داری سے مبرا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ پارٹی قیادت مسلسل پولیس اصلاحات اور بہتر حکمرانی کے دعوے کرتی رہی، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ وہ وفاقی اداروں پر انحصار کرنے کے سوا کوئی پائیدار مقامی سیکیورٹی ماڈل پیش نہ کر سکے۔

    2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کو پاکستان میں بعض حلقوں نے اپنی جیت قرار دیا تھا، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ جیت دراصل خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ایک نئے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئی۔ پچھلے حکومتی ادوار میں اسلام آباد کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی ناکام کوشش نے ان دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور پاکستان کے اندر اپنے قدم جمانے کا موقع دیا۔ آج خیبر پختونخوا کے عوام اسی غیر واضح اور متضاد پالیسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    2014 کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد قومی اتفاقِ رائے سے ایک نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میں انتہا پسندانہ بیانیے کی روک تھام، مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے اور فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات جیسے اہم نکات شامل تھے۔ مگر افسوس کہ ان میں سے بیشتر نکات سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو گئے۔ ریاست نے صرف ان پہلوؤں پر توجہ دی جو فوری عسکری ضرورت کے تھے، جبکہ سماجی، فکری اور تعلیمی اصلاحات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ نتیجتاً انتہا پسندی کی فکری جڑیں آج بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔

    ایک اور تکلیف دہ پہلو قومی میڈیا اور وفاقی سیاسی قیادت کا رویہ ہے۔ جب پشاور، بنوں یا وزیرستان میں خون بہتا ہے تو ملک کے بڑے میڈیا ہاؤسز اسے چند لمحوں کی “بریکنگ نیوز” سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اس مسئلے پر کوئی سنجیدہ قومی بحث دکھائی نہیں دیتی۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت صرف اس وقت خیبر پختونخوا کا رخ کرتی ہے جب انہیں ووٹ درکار ہوں، ورنہ وہ اس جنگ کو محض ایک علاقائی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ یہ لاتعلقی خیبر پختونخوا کے عوام میں احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ جب مقامی صحافی، سماجی کارکن یا سیاسی رہنما جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں ہراسانی، دھمکیوں اور بعض اوقات خاموش کرانے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

    دہشت گردی کی اس نئی لہر نے نہ صرف خیبر پختونخوا کے امن بلکہ اس کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ باہر سے سرمایہ کار یہاں آنے سے کتراتے ہیں، جبکہ مقامی سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک کے دوسرے حصوں یا بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔ سیاحت، جو کبھی صوبے کی معیشت کا اہم ستون تھی، تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔ مقامی کاروبار بھتہ خوری اور عدم تحفظ کے باعث بند ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع مزید محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر صوبے کے نوجوان ہو رہے ہیں۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بدامنی صرف انسانی جانوں کا زیاں نہیں بلکہ یہ ایک پوری نسل کی معاشی اور سماجی موت بھی ہے۔

    خیبر پختونخوا کو آج کسی نئے نمائشی آپریشن یا میڈیا مہم کی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، شفاف اور جامع قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز عوامی اعتماد کی بحالی سے ہونا چاہیے۔ ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا کہ محض طاقت کے استعمال سے دل و دماغ نہیں جیتے جا سکتے۔ مقامی آبادی کو سیکیورٹی کے عمل میں شریک بنانا ہوگا اور ان کی جائز شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔ ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فوج کے بجائے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی قیادت میں لڑنا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس کو جدید وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب تک شدت پسندی کی فکری جڑوں پر ضرب نہیں لگائی جائے گی، یہ ناسور ختم نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی نصاب، مدارس کی اصلاح، نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع کی فراہمی ناگزیر ہے۔

    خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات محض صوبائی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ایمرجنسی ہیں۔ یہ صوبہ پاکستان کا دفاعی حصار ہے؛ اگر یہ حصار کمزور ہوا تو اس کے اثرات اسلام آباد، لاہور اور کراچی تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے عوام لڑ لڑ کر اب تھک چکے ہیں۔ وہ مزید جنازے اٹھانے کی سکت کھو رہے ہیں۔ اگر اب بھی حکمتِ عملی نہ بدلی گئی تو یہ نہ صرف برسوں کی قربانیوں کو ضائع کر دے گی بلکہ ملک کو ایک ایسے انتشار میں دھکیل دے گی جس سے نکلنا شاید ناممکن ہو۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست، سیاسی قیادت اور معاشرہ مل کر اس نہ ختم ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، مخلص اور دیرپا اقدامات کریں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم
    Web Desk

    Related Posts

    بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم

    مئی 13, 2026

    معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

    مئی 13, 2026

    آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات، بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال

    مئی 13, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم

    مئی 13, 2026

    معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

    مئی 13, 2026

    آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات، بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال

    مئی 13, 2026

    ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دیدی

    مئی 12, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.