Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
    • پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
    • راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
    • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا
    • حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے، وزیراعظم شہبازشریف
    • بنوں: ایک اور پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا شکار، تین روز میں 3 اہلکار شہید
    • پشاور ہائی کورٹ کا دو افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روکنے کا حکم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!
    بلاگ مئی 6, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    Facebook Twitter Email
    We lost a sun
    شیخ ادریس نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث کی ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    رحیم شامزئی کی خصوصی تحریر: ۔

    یہ محض ایک قتل کی واردات نہیں، یہ ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے، چارسدہ کی شاہراہوں پر آج بھی شاید خون کے وہ دھبے موجود ہوں گے، لیکن جو خلا اس ایک گولی نے اس قوم کے ضمیر میں چھوڑا ہے، وہ شاید صدیوں میں بھی پُر نہ ہو سکے، حضرت مولانا شیخ محمد ادریسؒ المعروف ’’شیخ الحدیث‘‘ اور ’’زینت المحدثین‘‘ کو دن دہاڑے ان بزدل قاتلوں نے شہید کر کے ثابت کر دیا کہ یہ سرزمین اب صرف عام شہریوں کے لیے ہی نہیں، اپنے علماء اور مشائخ کے لیے بھی محفوظ نہیں رہی ۔

    یہ وہ ہستی تھے جن کی ذات پر کسی ایک مکتب یا جماعت کا ٹھیکہ نہیں تھا، وہ عقیدت کے اس مقام پر فائز تھے جہاں لاکھوں شاگردوں کی روحیں ان کے علم سے منسلک تھیں، وہ خود ایک چلتا پھرتا مدرسہ تھے، جب قاتل کی گولی نے انہیں نشانہ بنایا، تو اس نے ایک فرد کو نہیں، پختونخوا میں علم و حکمت کے ایک پورے باب کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    آئیے ایک لمحے کے لیے ان ہلاکت خیز اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں جو محض خبروں کی زینت بن کر رہ گئے، مولانا محمد ادریس شہید 2026، اس سے پہلے مولانا حمید الحق حقانی شہید 2025، مفتی منیر شاکر شہید 2025، یہ وہ المیے ہیں جو بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پختونخوا میں دیوبندی علماء کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے، یہ کوئی اتفاقیہ وارداتیں نہیں، یہ اس قوم کی علمی قیادت کو نیست و نابود کرنے کی ایک بھیانک سازش ہے، جنونی انتہا پسندی کی تلوار جب علم اور فکر کی گردنوں پر مسلط ہو جائے تو پھر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی توقع عبث ہے۔

    1961ء میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہونے والے شیخ محمد ادریس نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث کی ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی، ان کی شخصیت پر رعب اور محبت کا ایسا امتزاج تھا کہ دوست اور مخالف سبھی ان کی علمی بصیرت کے معترف تھے، جامعہ احسن المدارس جھگڑا پشاور سے لے کر دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک تک، ان کا وجود علم کا ایک روشن مینار تھا، جب وہ اپنی گاڑی میں درس و تدریس کے لیے جا رہے تھے تو شاید انہیں بھی گمان نہ تھا کہ علم کے مسافر پر موت اس طرح جھپٹے گی، پشتو زبان میں ان کے خطبات کی ثقافت اور دینی حمیت نے انہیں ’’علاقے کا بااثر ترین مذہبی رہنما‘‘ بنا دیا تھا، وہ محض ایک مدرس نہیں تھے، وہ ایک ایسے سیاستدان تھے جنہوں نے رکنِ صوبائی اسمبلی رہتے ہوئے معاشرتی و اخلاقی نظام کے فروغ میں لازوال کردار ادا کیا، وہ مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے تھے اور جرگہ سسٹم کے ذریعے پیچیدہ تنازعات حل کراتے تھے، مگر افسوس، مفاہمت کے اس سفیر کو انتہا پسندی نے گوارا نہ کیا، حکومت اور ریاست کی نام نہاد خاموشی کے بیچ یہ گروہ کھلے عام یہ پیغام دے رہا ہے کہ ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور علماء کا تحفظ اب ممکن نہیں رہا ۔

    سوال یہ ہے کہ پختونخوا میں ریاست، پولیس اور حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ ادارے صرف پوسٹ مارٹم رپورٹس درج کرنے اور مذمتی قراردادیں پاس کرنے کے لیے ہیں؟ حملے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، مقدمہ درج کر لیا گیا، لیکن یہ سب کاغذی کارروائیاں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جائے، یہ خاموشی نہیں، یہ ریاستی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ کا اعلان ہے، بار بار کی تحقیقاتی کمیٹیاں اور آئی جی صاحب کے سخت نوٹس بے اثر ہو چکے ہیں، عوام کا صبر لبریز ہو رہا ہے اور یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ اگر حکومتیں تحفظ دینے میں ناکام رہیں تو عوام اپنے تحفظ کے لیے خود کھڑے ہونے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

    ہم نے دیکھا کہ ہزاروں افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کی، غم و غصے کی یہ لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بیدار ہے، لیکن کیا ہم صرف جنازے پڑھنے اور ماتم کرنے کے لیے زندہ ہیں؟ کیا یہ پختون قوم صرف کندھا دینے اور بعد میں خاموش ہو جانے کے لیے مشہور ہو جائے گی؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنسوؤں کے ساتھ بہہ جائیں گے یا فکر و عمل کی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے ۔

    الوداع اے شہیدِ علم! تجھے کیسے بھلائیں کہ تو زندہ قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے، ہم عہد کرتے ہیں تیری شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب کرے، آمین ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی حالیہ ثالثی کی کوششیں قابل ستائش ہیں، پولینڈ کے سفیر کا تقریب سے خطاب
    Next Article مولانافضل الرحمان کا مولانا ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے جمعہ کو پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ

    اگست 11, 2026

    پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    اگست 11, 2026

    راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک

    اگست 11, 2026

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    اگست 10, 2026

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    اگست 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.