Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جون 10, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
    • معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف
    • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
    • مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید
    • پشاور: حسن خیل میں دہشتگردوں سے مقابلے میں 6 ایف سی اہلکار شہید
    • سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی، 14دہشتگرد ہلاک
    • سوات میں نجی سکول کی بس الٹ گئی،ایک طالبہ جاں بحق، 20 سے زائد زخمی
    • پشاور:حسن خیل میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، 8 حملہ آور ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جنید اکبر کا امتحان
    اہم خبریں

    جنید اکبر کا امتحان

    فروری 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) تحریک انصاف کو بطور جماعت اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہیں۔ ایک اپنے سربراہ کو جیل سے رہا کروانا اور دوسرا چیلنج بطور جماعت اپنی حثیت کو برقرار رکھنا۔

    آئیے ہم ان دو بڑے چیلنجز کے لیے پارٹی کی تیاری اور کوششوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر بانی پی ٹی ائی کی رہائی کے لیے کوششوں کا سرسری جائزہ لیا جائیں تو نو مئی کے بعد سے پے درپے احتجاجی مارچز، ڈی چوک دھرنے اور ملک بند کرنیکی کوششیں ناکام اور نامراد رہی ہیں۔ لیڈر کو رہا کرانا تو دور کی بات الٹا قیادت اور کارکنوں کے اوپر مزید پرچے درج ہوچکے ہیں۔

    مسلسل احتجاجی سیاست نے کارکنوں کو بھی نالاں کردیا ھے۔ دوسری طرف اندرون خانہ پی ٹی آئی میں گروپ بندی عروج پر ھے۔ وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے الیکشن کے دنوں میں پارٹی کے اندر اپنے تمام مخالفین کو وفاق بھیج کر اپنے لیے میدان صاف کر لیا تھا۔ لیکن اسکے باوجود علی امین نہ تو گورننس میں امیدوں پر پورا اتر رہا نہ ہی بانی کو جیل سے رہا کروانے میں بظاہر علی امین سنجدہ ھے۔ اس صورتحال میں خان صاحب کو بھی اندازہ ہوچکا ھے کہ علی امین کو صوبے میں پارٹی صدارت اور وزارت اعلیٰ کے عہدے بیک وقت دینا ہرگز دانشمندی نہیں تھی۔ خان صاحب کا اس سے پہلے بھی اپنے وزرائے اعلیٰ سے متعلق تجربہ اچھا نہیں ۔ چاہے وہ پرویز خٹک ہو یا عثمان بزدار، یا پھر محمود خان۔ ان تنیوں نے خان کو تاریکی میں رکھ کر اسٹیبلمشنٹ سے اپنا تعلق بنائے رکھا اور وقت انے پر خان کو بیچ سمندر اکیلا ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا۔

    نومبر میں ڈی چوک احتجاج ناکام ہونے کے بعد خان صاحب کی علی امین پر اعتماد میں کافی کمی آئی۔ کہا جاتا ھے کہ بشریٰ بی بی نے بھی جیل جاکر خان کو پختونخوا کی حکومت سے بدظن کرایا ھے۔ شکیل خان، عاطف اور اسد قیصر کافی عرصے سے علی امین کے خلاف پارٹی کے اندر لابنگ کرتے رہے ہیں۔ باوثوق زرائع کے مطابق 2024 کے آخری ایام میں جنید اکبر نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان کو علی امین گروپ کے خلاف بھڑکایا، چونکہ خان کے کان پہلے سے پک چکے تھے، اسی لیے 25 جنوری کو اعلان کیا گیا کہ مالاکنڈ حلقہ این اے 9 سے مںتخب رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی بنایا گیا،  خیبر پختونخوا میں پارٹی صدارت کا عہدہ علی امین سے لیکر جنید اکبر کو دیا گیا۔ اور یوں مالاکنڈ کا یہ 47 سالہ میڈل کلاس ایم این اے راتوں رات پارٹی کا مرکزی لیڈر بن گیا۔ اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک جنید اکبر پارٹی میں جانا پہچانا شخص تھا کیونکہ اسکی شہرت ایک شریف النفس شخص کے طور پر ھے۔ لیکن یک دم دو اہم عہدوں پر فائز ہو کر جنید اکبر پارٹی کے اندر کلیدی فیصلہ ساز بن گیا۔ لیکن یہ اہم عہدے اپنے ساتھ بہت بھاری زمہ داریاں بھی لائے ہیں۔ گرچہ جنید اکبر نے سیاست کا اغاز ہی پی ٹی آئی سے کیا ھے، نہ پارٹی بدلی، نہ مشکل وقت میں ساتھ چھوڑا ھے۔ لیکن صرف وفاداری سیاست میں کامیابی کی کنجی نہیں۔ سیاسی طور پر کامیاب رہنے کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ھے ،اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا مطلب جوڑ توڑ، کمپرومائز اور اصولوں سے انحراف ھے۔ راقم نے اس تحریر کے لکھنے سے پہلے جنید اکبر سے ان چیلنجز پر بات کی۔ دوران گفتگو اسکا موقف یہی تھا کہ خان کو رہا کروانا اور پارٹی کی تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں اسکی ترجیحات ہیں۔ کچھ حلقے سمجھتے ھے کہ جنید جیسا شریف اور کم تجربہ کار شخص پی ٹی ائی میں جاری رسہ کشی کو مزید مہمیز دیں گا، کیونکہ علی امین گروپ ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ پارٹی میں کوئی اور آکر مرکزی فیصلے لیں، چاہے وہ تنظیمی ہوں یا ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق۔ ایسے میں 8 فروری کو پی ٹی ائی کا اعلاں شدہ احتجاج اہمیت اختیار کرچکا کیونکہ یہ مائنس علی امین پہلا بڑا پاور شو ہوگا۔ اگر جنید اکبر گروپ اس پاور شو کو شایان شان طریقے سے منیج نہیں کرسکا تو شائد مخالف گروپ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر کمان سے پہلا تیر مار دیں۔ یہ دھندلا منظر نامہ 8 فروری کے بعد واضح ہوجائیگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Next Article پاکستان، سعودی فنڈ فار ڈیويلپمنٹ کے درمیان 1.61 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط
    Web Desk

    Related Posts

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

    جون 10, 2026

    مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید

    جون 10, 2026

    پشاور: حسن خیل میں دہشتگردوں سے مقابلے میں 6 ایف سی اہلکار شہید

    جون 9, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    جون 10, 2026

    معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف

    جون 10, 2026

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

    جون 10, 2026

    مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید

    جون 10, 2026

    پشاور: حسن خیل میں دہشتگردوں سے مقابلے میں 6 ایف سی اہلکار شہید

    جون 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.