فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے مردان میں کارروائی کرتے ہوئے سگریٹ کی فیکٹری کو سیل کرتے ہوئے غیر قانونی سگریٹ کے 62 کارٹن ضبط کرلئے ۔
مردان: ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی ان لینڈ ریونیو ٹیم نے مردان میں سگریٹ کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا جس کے دوران غیر قانونی سگریٹ کے 62 کارٹن ضبط کر لیے گئے ۔
ایف بی آر کے مطابق ضبط شدہ سگریٹ پر ٹیکسز ادا نہیں کئے گئے تھے جس پر فیکٹری کو سیل کر کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سگریٹ کی فیکٹری سینیٹر دلاور خان کی ہے اور سیاسی شخصیت کے دباؤ کے باوجود فیکٹری پر کارروائی عمل میں لائی گئی ۔
ایف بی آر ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق غیر قانونی سگریٹس بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جس کے دوران کوئی سیاسی دباو قبول نہیں کیا جا رہا ہے ۔
ایف بی آر ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کو غیر قانونی سگریٹ تجارت کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے کا بھاری نقصان ہوتا ہے، ملک میں سگریٹ کی غیرقانونی تیاری میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ معیشت کیلئے سنگین چیلنج بن چکی ہے ۔
اس حوالے سے سینیٹر دلاور خان نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ وہ گاؤں نہیں گئے اور ان کو اپنی فیکٹری پر چھاپے کے حوالے سے کوئی علم نہیں ہے ۔

