Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اکتوبر 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!
    • افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت
    • خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 خارجی دہشت گرد جہنم واصل
    • سرکاری حج سکیم: دوسری قسط کی وصولی آج رات سے شروع
    • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے
    • 24 سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا، بے گھر افراد کو چھت فراہمی میں پیش رفت
    • ہیلتھ سیکٹر میں خود انحصاری: ایس آئی ایف سی کی اصلاحات سے برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر غور
    • ایشین گیمز اختتام پذیر، چین بازی لے گیا، پاکستان 10 میڈلز کے ساتھ 29ویں نمبر پر رہا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » قلبیہ ۔۔۔قلب سے روح تک کا سفر۔۔۔۔ حسنین نازشؔ
    ادب جنوری 30, 2026

    قلبیہ ۔۔۔قلب سے روح تک کا سفر۔۔۔۔ حسنین نازشؔ

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پروفیسر محمد جلیل عالیؔ اردو کے معیاری شعر و ادب کے ایک بزرگ، بالغ النظر اور فکری گہرائی س ے مالا مال شاعر ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں نقّاد، محقق، ماہر تعلیم اور اقبال شناس کے حُسنِ کردار سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری احساس کا آبشار، فکری بلندیاں، اور جمالیاتی حسن کے حسین امتزاج پر مشتمل ہے۔ ان کی نظمیہ مجموعہ ’’قلبیہ‘‘ (نام ہی اپنا معنی بیان کرتا ہے: دل کی آواز، دل کا اعتراف) ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جس میں نظمیں دل کے اندر کے راز، روح کے دکھ، زمانے کے تضادات، انسانی جذبات اور سماجی مشاہدات کو ایک ہم آہنگ اور سنگِ میل انداز میں پیش کرتی ہیں۔
    سلسلہِ قلبیہ کی پہلی نظم ملاحظہ ہو:

    خرابی دور کرنے کے لئے
    لازم تھا
    چھاتی چیر دی جائے
    نگاہوں میں
    قصائی کے کٹے بکروں کے
    لٹکے عکس لہرائے
    یہ گھاٹی پار کر کے
    اک نئے جیون کی صورت
    سانس جو پائے

    قلبیہ میں جلیل عالیؔ کی زبان نہ صرف سادہ و شستہ ہے بلکہ معنویت میں گہرائی لیے ہوئے ہے۔ الفاظ کا انتخاب ایسا ہے کہ وہ سیدھی دل کی دھڑکن سے قاری کے سینے تک پہنچتے ہیں۔ محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال یہاں سلسلۂ کلام کی روانی کو مزید معنوی چاشنی بخشتا ہے۔
    نظم ’’تمھیں کای ہو گیا ہے!‘‘ ملاحظہ ہو:

    تمھارے ساتھ
    باہم گفتگو
    ابلاغِ دوطرفہ نہیں ہوتی
    چلومانا
    پرانے ہوگئے ہیں ہم
    سو’ فصل نسل‘ ہی کہہ لو
    یہاں ناصحانہ مسجع اور ضربِ الامثال کی طرز کی ترکیب ایک مفہوم کی تصویری کیفیت بناتی ہے۔

    ہر نظم میں ایک دل ، دلائل ، داخلی مکالمہ شامل نظر آتا ہے۔ نظمیں خود کو محبت کی محرومی، انسانیت کی جستجو، تنہائی کا رازدان، وقت کے سوالات کے گرد گھموتی پھرتی ہیں۔
    قبلیہ کے تسلسل سے جڑی ایہ نظم ملاحظہ کیجیے:

    مجھے آئینے سے کون تکتا ہے
    مرے جیسی شباہت ہے
    مگر یہ میں نہیں ہوں
    اور ہے کوئی

    یہاں نظمیں محض احساسات کا اظہار نہیں بلکہ وجود کے راز، شعور کی کھوج، درد کی علامت اور امید کی روشنی بھی پیش کرتی ہیں۔قلبیہ کے کچھ نمایاں موضوعات میں ’’دل کے تضادات،محبت و نفرت، امید و یاس
    سماجی آلام: جدائی اور انسانیت کی تنہائی،فکری کشمکش: دینی و دنیاوی سوالات، روحانی طلب ، زندگی کا معنوی سفر وغیرہ شامل ہیں۔
    ’’قلبیہ‘‘ صرف نظموں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری کائنات ہے جہاں ہر نظم ایک دل کی واردات (Heart’s Incident) ہے، جو اپنے اندر اثر و عکس، سوال و جواب، درد و ملال کو بیک وقت سموئے ہوئے ہے۔
    مثلاً:

    کہیں اندر ہی اندر
    ایک اک کر کے
    دریچے کھلتے جاتے ہیں
    گلِ احساس پر
    شبنم کے قطروں کی طرح
    حکمت کے
    کیا کیا قیمتی ہیرےاُترتتے ہیں

    یہاں دل اور وقت کے مابین وہ اندرونی مکالمہ اُبھر کر آتا ہے جو انسان کے اندرونی تضادات کا منمنا، نقیب و نگہبان ہے۔
    ’’قلبیہ‘‘ ایک ایسی نظمیہ کتاب ہے جوقاری کے دل کی دھڑکن کو الفاظ میں ڈھالتی ہے۔سماج کے دکھوں کو انصاف کی روشنی میں پیش کرتی ہےاور ہر صفحے پر جمالیاتی حسن سے قاری کو گہرا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ بقول شخصےیہ مجموعہ صرف نظموں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل و دماغ کی ایک فکری نگاہ ہے۔
    پروفیسر جلیل عالیؔ نے اردو ادب میں اپنی قلمی حیثیت نہایت وقار، دانش و دل کی گہرائی کے ساتھ مستحکم کی ہے۔ ان کی شاعری میں اقبالیت کا جذبہ، روایت و تنقید کا حسین ملاپ، اور جدیدیت کی خوشبو نمایاں ہے۔قلبیہ میں ان کی نظم اقبال ان کے اقبال کے پیرو ہونے کی زندہ دلیل ہے:

    رہتی تھی کوئی برقِ تپاں قلب و جگر میں
    اک ہجر کہ رکھتا تھا اُسے شوقِ سفر میں
    کیوں حشر اٹھاتا نہ جنوں اُس کا فلک پر
    لاتا تو ستاروں کی خبر ثانیہ بھر میں

    اگر ہم کہیں تو ’’قلبیہ‘‘ ایک فکری خزانہ، جذباتی آئینہ، اور جمالیاتی آتشیں سطروں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ہر نظم اپنے اندر سحر و سرور، سوال و جواب، درد و ضیاء کی لکیریں سمائے ہوئے ہے۔ جیسےقلب کے لامتناہی کینوس پر جلیل عالیؔ نے اپنی نظموں کے رنگ و روغن سے وہ نقش چھوڑ دیا ہے جو قاری کی روح تک رسائی رکھتے ہیں۔

    مبصر: حسنین نازشؔ
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایک غیر روایتی خودنوشت – ناہید قمر
    Next Article بلوچستان میں دہشتگردوں کے متعدد حملے ناکام، 58 دہشتگرد ہلاک، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید
    Saqib Butt

    Related Posts

    حکومت اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی

    جولائی 23, 2026

    ایک غیر روایتی خودنوشت – ناہید قمر

    جنوری 30, 2026

    مطالعہ میں دلچسپی بڑھانے کے رہنما اصول – حسن اختر

    جنوری 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت

    اکتوبر 5, 2026

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    اکتوبر 5, 2026

    سرکاری حج سکیم: دوسری قسط کی وصولی آج رات سے شروع

    اکتوبر 5, 2026

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے

    اکتوبر 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.