افغانستان میں موسم کی پہلی بڑی بارش اور برفباری نے کئی ہفتوں کی خشک سالی کا خاتمہ تو کر دیا، تاہم مختلف علاقوں میں آنے والے اچانک سیلابوں اور بارش کے باعث کم از کم 17 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے ہیں۔
صوبہ ہرات کے مغربی ضلع کبکان میں ایک گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان سے گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ صوبائی گورنر کے ترجمان محمد یوسف سعیدی کے مطابق یہ واقعہ شدید بارش کے باعث پیش آیا۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں پیر کے روز سے اب تک سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ شدید موسمی صورتحال نے افغانستان کے وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، مویشی ہلاک ہوئے اور تقریباً 1800 خاندان متاثر ہوئے ہیں، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار شہری اور دیہی آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان، پاکستان اور بھارت کی طرح شدید موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق کمزور انفراسٹرکچر، جنگی حالات، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیاں ایسے قدرتی حادثات کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہیں، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں مکانات زیادہ تر کچی مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان آئندہ سال بھی دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں شامل رہے گا۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے رواں ہفتے 1 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کی اپیل جاری کی ہے، جس کا مقصد تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کو ہنگامی امداد فراہم کرنا ہے۔

