عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے مادری زبان میں تعلیم کے فروغ اور لسانی تنوع کے تحفظ کیلئے خیبرپختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے، جس میں صوبائی حکومت سے پروموشن آف ریجنل لینگوجز اتھارٹی ایکٹ 2012 کو فی الفور فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
توجہ دلاؤ نوٹس کے متن میں کہا گیا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم ہر بچے کا آئینی اور بنیادی حق ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2012 میں لینگوجز اتھارٹی ایکٹ کو اکثریت سے منظور کیا تھا۔ نوٹس کے مطابق اس قانون کے تحت انٹرمیڈیٹ تک نصاب میں مادری زبانوں پشتو، ہندکو، کھوار، سرائیکی اور کوہستانی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
نوٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ 13 برسوں سے پشتو اور ہندکو کے حوالے سے عملدرآمد سست روی کا شکار ہے، جبکہ لازمی قرار دی جانے والی دیگر زبانوں پر عملدرآمد مکمل طور پر معطل ہے۔ اے این پی نے متعلقہ محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پشتو کو 100 نمبروں کے لازمی مضمون کے طور پر جنوری 2026 کی سکیم آف اسٹڈی میں شامل کیا جائے، جبکہ ہندکو، سرائیکی، کھوار اور کوہستانی زبانوں کے حوالے سے بھی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ اے این پی نے گوجری، توروالی، گاؤری اور شینا زبانوں کو بھی نصاب کا حصہ بنانے کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجود لسانی تنوع کے تحفظ اور فروغ کیلئے لینگوجز اتھارٹی ایکٹ 2012 کو فوری طور پر فعال کیا جانا ناگزیر ہے۔

