ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے ساتھ معاون جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس پیش رفت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی افواج کے دفاع یا ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے میں داخل ہو چکے ہیں جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایک “بحری فوج” ایران کی جانب روانہ کی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس قوت کو استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
امریکی جنگی جہاز اس ماہ کے آغاز میں ایشیا پیسیفک خطے سے روانہ ہوئے تھے، جب ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اس دوران متعدد بار دھمکی دی تھی کہ اگر ایران مظاہرین کو قتل کرتا رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا، تاہم بعد ازاں مظاہروں میں کمی واقع ہوئی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ہلاکتوں کا سلسلہ کم ہو چکا ہے اور ان کے خیال میں فی الوقت قیدیوں کو سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

