Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور میں بم ناکارہ بنانے کے دوران پھٹ گیا، بی ڈی یو اہلکار شہید
    • گورنر خیبر پختونخوا اور سعودی سفیر نے پشاور میں سعودی ایئرلائنز کے نئے دفتر کا افتتاح کر دیا
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو
    • وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت
    • گوادر بندرگاہ پر بحری تجارتی جہازوں کو بنکرنگ کی سہولت کا آغاز، 40 سال بعد اہم سنگ میل عبور
    • کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار
    • خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان
    • آزاد جموں و کشمیرکے امن و امان کو تباہ کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی گھیرا تنگ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے
    بلاگ

    بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے

    جنوری 27, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Militants launch tech-enabled attacks in Bannu
    بنوں میں دہشتگردی کی حالیہ لہر میں اب روایتی ہتھیاروں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے
    Share
    Facebook Twitter Email

    کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں سے شہری زندگی خوف میں جکڑی ہوئی

    (بنوں سے فرحت اللہ بابرکی تحریر ) :بنوں میں دہشتگردی کی حالیہ لہر میں اب روایتی ہتھیاروں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے جبکہ کواڈ کاپٹر ڈرون جیسے جدید ہتھیاروں کے استعمال نے اس جنگ کی نوعیت ہی تبدیل کر دی ہے۔
    ذرائع کے مطابق عسکریت پسند اب براہ راست حملوں میں نائٹ ویژن گنز، لیزر گنز اور جدید کواڈ کاپٹر ڈرون کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ڈرون نہ صرف مہنگے اور جدید ہیں بلکہ مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے میں انتہائی مؤثر بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    تاہم مسلح عسکریت پسندوں اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری اس حالیہ جنگ میں کواڈ کاپٹر ڈرون ایک نئے اور خطرناک ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے بنوں کے مختلف علاقوں میں سرکاری املاک اور رہائشی گھروں پر 20 سے زائد حملے کیے گئے، جن میں 9 شہری شہید جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 35 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
    زیادہ تر حملے تحصیل بکاخیل، تھانہ میریان اور تحصیل میریان کے مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئے، جہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی متاثر ہوئے۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور سال 2025 کے دوران 300 سے زائد ممکنہ حملے ناکام بنائے گئے جبکہ عسکریت پسندوں کے چار کواڈ کاپٹر ڈرون ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔
    تاہم کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں کی یہ صورتحال نہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے بلکہ شہریوں کے لیے بھی شدید خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہے، جس کے باعث لوگ اب اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

    خدری ممندخیل سے تعلق رکھنے والے میر محمد خان نے بتایا کہ ان کے بچے عصر کے وقت گھر کے ساتھ واقع حجرے میں کھیل رہے تھے کہ اچانک اوپر سے کواڈ کاپٹر ڈرون نے حملہ کر دیا۔

    “جب ہم مسجد سے نکلے تو بچے خون میں لت پت پڑے تھے۔ حملے میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ باقی خوف کے باعث بے ہوش ہو گئے۔ یہ منظر آج بھی میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔”

    اسی طرح تحصیل بکاخیل کے نوجوان کمیٹی کے صدر ملک فیض محمد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کواڈ کاپٹر ڈرون کی پروازیں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

    “خواتین اور بچے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور معمول کی زندگی متاثر ہو چکی ہے۔”

    عوام کا کہنا ہے کہ جب جنگ جدید ہو جائے تو عام شہری سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

    کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں نے پورے علاقے کا سکون چھین لیا ہے، لہٰذا حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کر کے ان حملوں کا سدباب کریں تاکہ شہری، خصوصاً بچے، اس مستقل خوف اور ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کر سکیں

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleلکی مروت: پولیس چھاپے کے دوران ایس ایچ او زخمی، عباسہ خٹک میں سولر ٹیوب ویل پر دھماکہ
    Next Article ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور میں بم ناکارہ بنانے کے دوران پھٹ گیا، بی ڈی یو اہلکار شہید

    جولائی 14, 2026

    گورنر خیبر پختونخوا اور سعودی سفیر نے پشاور میں سعودی ایئرلائنز کے نئے دفتر کا افتتاح کر دیا

    جولائی 14, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو

    جولائی 14, 2026

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت

    جولائی 14, 2026

    گوادر بندرگاہ پر بحری تجارتی جہازوں کو بنکرنگ کی سہولت کا آغاز، 40 سال بعد اہم سنگ میل عبور

    جولائی 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.