Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    • بانی پی ٹی آئی کے پمز ہسپتال میں معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، صحت مند قرار
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home
    بلاگ جنوری 26, 2026

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    صبح کی سیر: افادیت سے توبہ 

    (جی ایم قریشی)

    ​بچپن سے ہم نے سکول اور کالج کے ہر امتحان میں ایک مضمون "صبح کی سیر کی افادیت” ضرور رٹا تھا۔ اس وقت ہم بڑے شوق سے لکھتے تھے کہ "صبح کی سیر کے لیے اٹھنا صحت کے لیے بے حد مفید ہے” اور "تندرستی ہزار نعمت ہے”۔ تب کیا معلوم تھا کہ کتابی باتیں اور زمینی حقائق میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ایک معصوم طالب علم اور ایک منجھے ہوئے سیاستدان میں ہوتا ہے۔ پچھلے اتوار ہم نے بھی اسی "افادیت” کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا۔

    ​صبح پانچ بجے جب الارم بجا تو لگا کسی نے کان میں بم پھوڑ دیا ہے۔ باہر شدید سردی اور بارش کا زور ایسا تھا جیسے بادلوں نے آج ہی سارا حساب برابر کرنا ہو۔ ہم نے نہا دھو کر (جو کہ اس موسم میں کسی خودکش حملے سے کم نہ تھا) اپنا "خاص لباس” زیب تن کیا۔ یہ لباس کم اور "رِزقِ خاکستری” زیادہ لگ رہا تھا۔ تین سویٹر، دو جیکٹیں اور سر پر مفلر کا ایسا پیوند لگا تھا کہ میں خود کو آئینے میں دیکھ کر پہچان نہ سکا؛ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خلائی مخلوق غلطی سے زمین پر اتر آئی ہے جو بارش سے بچنے کے لیے شاپر بھی اوڑھے ہوئے ہے۔

    ​کالج کے مضمون میں لکھا تھا کہ "پرندے چہچہا رہے ہوں گے”، مگر یہاں گلی میں نکلتے ہی صرف کتے بھونک رہے تھے جو شاید میرے اس عجوبہ لباس کو دیکھ کر صدمے میں آگئے تھے۔ استقبال "دھول اور کیچڑ” کے ایک حسین سنگم نے کیا۔ ہماری گلیوں کا حال یہ ہے کہ یہاں کی دھول میں وہ وفاداری ہے جو کتے میں بھی نہیں ہوتی؛ ایک بار کپڑوں سے چمٹ جائے تو قبر تک ساتھ نبھاتی ہے۔ بارش نے اس دھول کو ایسا "چاکلیٹی حلوہ” بنا دیا تھا کہ ہر قدم پر پھسلنے کا ڈر تھا۔ میں نے دل میں سوچا، حکومت شاید ان گلیوں کو "ایڈونچر سپورٹس” کے لیے محفوظ کر رہی ہے۔

    ​کتاب میں پڑھا تھا کہ "نہر کا پانی چاندی کی طرح چمکتا ہے”، مگر یہاں منظر دیدنی تھا۔ نہر کیا تھی، کچرے کا ایک چلتا پھرتا میوزیم تھا! لوگ اتنی عقیدت سے گھر کا کوڑا کرکٹ نہر میں پھینک رہے تھے جیسے کوئی مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہوں۔ پانی کا رنگ ایسا کالا سیاہ تھا کہ اگر اس میں قلم ڈبویا جائے تو پوری کتاب لکھی جا سکتی تھی۔

    ​اسی اثنا میں دیہاڑی دار مزدوروں کا ریلا آیا۔ وہ بیچارے رزق کی تلاش میں اتنی جلدی میں تھے کہ انہیں میرے "شاہی لباس” کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ ایک بھائی صاحب نے ایسا زوردار دھکا دیا کہ میں لہراتا ہوا تقریباً نہر کے قریب جا پہنچا۔ ان کی تیزی دیکھ کر لگا کہ شاید وہ اولمپکس کی تیاری کر رہے ہیں، بس ٹریک کی جگہ ہماری پسلیاں استعمال ہو رہی تھیں۔

    ​کالج کے مضمون کی وہ لائنیں یاد آرہی تھیں کہ "چاروں طرف ہریالی اور سبزہ دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے”۔ میں نے وہاں "گرینری” ڈھونڈی مگر صرف وہ کائی ملی جو گندی دیواروں پر جمی ہوئی تھی۔ جہاں درخت ہونے چاہیے تھے، وہاں بجلی کے کھمبے سینہ تانے کھڑے تھے جن پر تاروں کا جال کسی مکڑی کے بھوتیا گھر جیسا لگ رہا تھا۔ دھوئیں اور گرد و غبار نے آنکھوں میں وہ سوزش پیدا کی کہ میں "صحت” بنانے گیا تھا اور "مریضِ چشم” بن کر رہ گیا۔ دل سے دعا نکلی کہ کاش یہاں کوئی ایک درخت بھی ایسا ہوتا جس کے نیچے کھڑے ہو کر بندہ دو پل سکون کے گزار لیتا۔

    ​ابھی میں ان فلسفیانہ سوچوں میں گم تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار "فرشتے” نمودار ہوئے۔ انہوں نے نہایت تمیز سے (پستول دکھا کر) پوچھا، "بھائی جان، جو کچھ ہے نکال دو۔”

    میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی جیب سے وہ پرانا موبائل نکالا جس کا بٹن دبانے کے لیے ہتھوڑے کی ضرورت پڑتی تھی، اور ساتھ ہی وہ 500 کا نوٹ جو میں نے واپسی پر گھر کے لیے ناشتے کے لیے رکھا تھا۔

    ڈاکو نے میرا موبائل دیکھا، پھر مجھے دیکھا، اور پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولا، "اوئے، تو سیر کرنے نکلا ہے یا خیرات مانگنے؟” خیر، انہوں نے غنیمت جانا اور میرا وہ 500 کا نوٹ اور عجائب گھر والا موبائل لے کر نو دو گیارہ ہو گئے۔

    ​میں لٹا پٹا، کیچڑ میں لت پت اور بھوکا پیاسا جب گھر پہنچا تو بیگم نے پوچھا، "کیسی رہی سیر؟ کیا لائے ناشتے میں؟”

    میں نے صوفے پر گرتے ہوئے کہا، "ناشتہ تو ڈاکو کر گئے، اور میں اپنی عقل کا علاج کروا آیا ہوں۔”

    اسی وقت میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور بلند آواز میں اعلان کیا کہ آج کے بعد "صبح کی سیر” صرف خوابوں میں ہوگی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جتنی ورزش ڈاکوؤں سے بچنے اور کیچڑ میں توازن برقرار رکھنے میں ہو گئی ہے، اتنی تو شاید کسی جم (Gym) میں بھی نہ ہوتی۔ کالج کا وہ مضمون لکھنے والے پر اب مجھے شدید غصہ آ رہا ہے، کاش اس نے "گھر میں سونے کی افادیت” پر بھی کچھ لکھا ہوتا!

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان، ڈالر کی قدر میں ایک پیسے کی کمی
    Next Article لکی مروت: پولیس چھاپے کے دوران ایس ایچ او زخمی، عباسہ خٹک میں سولر ٹیوب ویل پر دھماکہ
    Amin Mashal

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی

    اگست 21, 2026

    ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات

    اگست 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.