اگر کوئی شخص یہ سمجھنا چاہے کہ آج کا پاکستان اصل میں کیسا ہے تو اسے کسی لمبے تجزیے یا موٹی کتاب کی ضرورت نہیں، صرف ایک دن پر نظر ڈالنا کافی ہے، ایک ایسا دن جس میں خوشی بھی تھی، غم بھی اور ریاستی مصروفیت بھی، یہ تینوں کہانیاں بیک وقت چل رہی تھیں، بالکل ویسے ہی جیسے یہ ملک خود چلتا ہے ۔
اس ایک دن ، پنجاب میں کئی برس بعد بسنت کا سماں تھا, آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجا ہوا تھا، ڈھول کی تھاپ پر نوجوان جھوم رہے تھے اور لوگوں کے چہروں پر ایک عرصے بعد کھل کر مسکراہٹ نظر آ رہی تھی، یہ صرف ایک تہوار نہیں تھا بلکہ ایک احساس تھا،زندگی کے جاری رہنے کا اعلان ۔
اسی دن اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، معصوم جانیں ضائع ہوئیں، گھر اُجڑ گئے اور فضا سوگوار ہو گئی،سوشل میڈیا پر دعاؤں، خون کے عطیات کی اپیلوں اور حفاظتی ہدایات کا سیلاب آ گیا۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی اور عام شہری ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھ آئے۔
اور انہی لمحات میں، دارالحکومت کے سرکاری ایوانوں میں پاکستان کی قیادت ایک اہم سفارتی دورے میں مصروف تھی۔ ازبکستان کے صدر کی میزبانی ہو رہی تھی، تجارت، توانائی اور علاقائی تعاون پر بات چیت جاری تھی، بظاہر یہ سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب پاکستان کی ایک ہی تصویر کے مختلف رنگ ہیں ۔
پاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جو خوشی اور غم کو ایک ساتھ جینا جانتے ہیں۔ یہاں لوگ حالات سے بے خبر ہو کر خوشی نہیں مناتے، بلکہ حالات کے باوجود زندگی کا جشن مناتے ہیں، یہ بے حسی نہیں، بلکہ ایک گہری شعوری قوت ہے، لوگوں کو معلوم ہے کہ زندگی نازک ہے، اس لیے اس کی خوشیوں کو تھام کر رکھا جاتا ہے ۔
یہی لچک ہماری اصل طاقت ہے، حادثے کے بعد فوری ردعمل، عوام کا منظم ہونا، اداروں کا حرکت میں آنا،یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے مشکلات سے سیکھا ہے، نظام مکمل نہیں، مگر زندہ ہے اور سب سے بڑھ کر انسانی جذبے سے جڑا ہوا ہے ۔
اس ملک کی اصل کہانی اس کے عام شہری ہیں، وہ والدین جو صبر کے ساتھ بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں، وہ طلبہ جو نامساعد حالات کے باوجود آگے بڑھنے کا خواب دیکھتے ہیں، وہ کسان جو غیر یقینی موسموں میں بھی بیج بوتا ہے، اور وہ نمازی جو خوف کے باوجود مسجد کا رخ کرتا ہے ۔
یہ قوم امید کو عیاشی نہیں سمجھتی بلکہ ضرورت مانتی ہے، شادی ہو، تہوار ہو یا فصل کی کٹائی،لوگ اس لیے جوش سے مناتے ہیں کہ یہی خوشیاں انہیں حوصلہ دیتی ہیں ۔
اس دن نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان میں سانحہ سفارت کاری کو نہیں روکتا، اور غم خوشی کو ختم نہیں کرتا، دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، یہی پاکستان ہے، جو کئی سانحات کے باوجود پرعزم، عوام پرامید ۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود یہ ملک آج بھی قائم ہے، اور کل کی طرف بڑھ رہا ہے، امید ثابت قدم ہے کہ اچھے دن آئیں گے، دہشتگردی ختم ہوگی، ملک ترقی کی جانب مزید بڑھے گا ۔

