اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہےکہ اس ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم مذاکرات اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں ۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا ہےکہ بات چیت اس مرحلے تک پہنچ رہی ہے کہ اس ہفتے پاکستان کے شہر اسلام آباد میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات ہو سکتی ہے ۔
امریکی میڈیا سے منسلک صحافی نے ایکس پوسٹ میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر ایرانی حکام جب کہ امریکہ کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہوسکتے ہیں ۔
صحافی نے ایکس پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے ترکیے، پاکستان اور مصری حکام امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں ۔
پاکستانی قیادت پورے عمل کے دوران متحرک رہی، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے جاری رکھے، جبکہ آرمی چیف عاصم منیر نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سٹریٹجک ملاقاتیں کیں ۔
باخبر حکام کے مطابق، توجہ صرف فوری کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں تھی بلکہ دیرپا علاقائی استحکام کی بنیاد رکھنے پر بھی مرکوز رہی ۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متوازن حکمت عملی اپنائی، اور امریکہ و ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ۔
اسی پوزیشن نے اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرنے میں مدد دی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے محدود تھے ۔

