وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی اداروں کے اجلاس کے دوران بتایا کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر قرض کی واپسی سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف مالی آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یورو بانڈز، سکوک، تجارتی قرضوں اور دوست ممالک سے مالی معاونت حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا پانڈا بانڈ بھی جاری کرے گا جو چینی کرنسی یوآن میں ہوگا اور ایک ارب ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہوگا۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق ملک کے پاس اس وقت تقریباً ڈھائی سے تین ماہ کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ موجود ہے اور حکومت کا ہدف اسے مستحکم سطح پر برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف پر قائم ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید مالی اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں انہوں نے اسٹریٹجک ذخائر اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق عالمی اور علاقائی حالات کے باوجود پاکستان رواں مالی سال میں 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ اور مضبوط ترسیلات زر کی بدولت معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔

