افغان طالبان کی اعلیٰ سطح کی قیادت نے کابل میں حالیہ اہم اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود تمام غیر قانونی غیر ملکی شہریوں، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان کو فوری طور پر گرفتار اور حراست میں لیا جائے، یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے مسلسل دباؤ اور نرم و سخت پالیسیوں کے نتیجے میں سامنے آیا ہے ۔
کابل (نمائندہ خیبرنیوز) اجلاس میں طالبان قیادت نے تسلیم کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔
ذرائع کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔
پاکستان نے گزشتہ چند ماہ سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھایا تھا، سفارتی سطح پر مسلسل رابطے، بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بعض محدود فوجی آپریشنز کے ذریعے پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی روکی نہ گئی تو تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔
چین، ایران، ترکی اور قطر سمیت کئی دوست ممالک نے بھی طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے حل کریں ۔
اب یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ممکنہ بہتری کی طرف اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، پاکستانی حکام نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ ’’اسلامی اصولوں‘‘ کے تحت غیر ملکیوں کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کارروائی مکمل اور شفاف ہوئی تو پاکستان افغانستان بارڈر پر دہشت گردی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم، ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ عمل درآمد پر گہری نظر رکھنا ضروری ہو گا ۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ بنا لیا تھا، نتیجتاً 2022 سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ۔
صرف 25۔2024 میں ٹی ٹی پی نے ہزاروں حملے کیے جن میں سینکڑوں پاکستانی فوجی اور عام شہری جاں بحق ہوئے، پاکستان نے بار بار طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی لیڈرشپ کو پاکستان کے حوالے کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں، لیکن ابتدائی طور پر طالبان نے انکار کیا ۔

