امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کی تیاریوں کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر اسلام آباد ریڈ زون میں داخلہ بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ریڈ زون میں 21 اپریل کو بھی داخلہ مکمل طور پر بند رہے گا۔
نوٹی فکیشن کے تحت ریڈ زون میں قائم دفاتر اور اسکولز کو ورک فرام ہوم کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ 21 اپریل کو ریڈ زون میں تمام سرکاری و نجی سرگرمیاں محدود رہیں گی۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر ریڈ زون جانے سے گریز اور ریڈ زون میں واقع اداروں کو آن لائن کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جگہ جگہ ناکوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے اور ریڈ زون کی جانب جانے والے راستے مکمل بند کر دیے گئے ہیں۔ کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جاسکتی ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہکنا ہے کہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہیوی، کمرشل اور پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ ممنوع ہے، جی5،6،7، ایف 6،7 کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ سے نائنتھ ایونیو کا راستہ استعمال کریں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑ دی جائے گی، تاہم مصروف کاروباری مرکز بلیو ایریا جزوی طور پر کھلا ہے۔
ہفتہ, مئی 9, 2026
بریکنگ نیوز
- امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان
- آپریشن بنیان مرصوص قومی دفاع، عسکری مہارت اور قومی یکجہتی کی شاندار مثال ہے، سپیکر قومی اسمبلی
- معرکہ حق: جی ایچ کیو راولپنڈی میں کل صبح پروقار تقریب منعقد ہو گی
- وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 25 مئی تک چین کا دورہ کریں گے
- ایران امریکہ مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان
- خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے 2 آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 5 خارجی دہشتگرد ہلاک
- حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا
- آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قرض قسط کی منظوری دے دی

