وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے مختلف اہم تجاویز تیار کر لی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، بعض ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنا اور کم از کم اجرت میں بہتری جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کر لیے ہیں، جہاں آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا اور اس پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ابتدا میں یہ اجلاس یکم جون کو بلانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم بڑی تعداد میں ارکانِ پارلیمنٹ کے حج پر ہونے کے باعث شیڈول میں تبدیلی کر دی گئی۔ اس وقت 60 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان کی واپسی جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔
بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے ریلیف کے لیے تین بڑی تجاویز زیر غور ہیں، جنہیں حتمی منظوری سے قبل وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
حکومتی سطح پر تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 10 فیصد تک اضافے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ چار مختلف ایڈہاک الاؤنسز میں سے کچھ کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز زیر بحث ہے، جو اس وقت علیحدہ طور پر ادا کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کے ملازمین کے لیے ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز بھی تیار کی گئی ہے تاکہ کم اور متوسط درجے کے ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ ریلیف مل سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ میں کم از کم اجرت بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
پنشن میں اضافے کے لیے گزشتہ دو سال کی اوسط مہنگائی کی شرح کو بنیاد بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ ریٹائرڈ افراد کو معاشی دباؤ سے کچھ تحفظ دیا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ میں 5 سے 10 فیصد تک کمی کی درخواست بھی کی ہے۔
یہ تمام تجاویز آئندہ چند روز میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی، جس کے بعد انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بجٹ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

