امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی ایک اہم اجلاس کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا، جس کے باعث ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت شرائط پر غور کے لیے یہ میٹنگ طلب کی تھی، تاہم کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اشارہ دیا تھا کہ وہ اسی اجلاس میں حتمی فیصلہ کریں گے اور انہوں نے ایران کے لیے کچھ سخت شرائط بھی بیان کی تھیں۔
ان شرائط میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عہد، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا، اور بعض فوجی و معاشی اقدامات شامل تھے۔ تاہم امریکی اور ایرانی موقف میں واضح تضادات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے مسودے میں نہ تو آبنائے ہرمز پر ٹیکس کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی جوہری مواد کی تلفی کی شق شامل ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے منجمد 12 ارب ڈالر کی ادائیگی ایک اہم شرط ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے ایران کی جانب سے میزائل داغنے اور ڈرون سرگرمیوں کی اطلاعات دی ہیں، جبکہ ایران نے بھی مختلف عسکری اقدامات کی تصدیق کی ہے۔ امریکا نے اس صورتحال میں نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ادھر عمان کے کردار پر بھی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ ٹیکس نظام پر گفتگو جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دھمکی آمیز بیان بھی دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی شرائط مذاکرات کے بجائے طاقت کے ذریعے منواتا ہے، جبکہ خطے میں سفارتی کوششیں مسلسل دباؤ اور عدم اعتماد کا شکار ہیں۔

