خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس پشاور سپورٹس گراؤنڈ میں منعقد ہوا جس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا، دوسری جانب سٹیڈیم میں اجلاس دیکھنے کے لیے آنے والے کارکنوں اور بڑی تعداد میں موجود دیگر افراد نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی اور احتجاج بھی کیا ۔
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں ہوا، جس میں افغانستان سے مذاکرات کی قرارداد منظور کرلی گئی ۔
افغانستان سے مذاکرات کے حوالے سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی غلط فہمی مذاکرات کے ذریعے دور کی جائے ۔
اجلاس میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف، مہنگائی کے خلاف، ججوں کے تبادلوں کے خلاف، اور بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی اور ان سے ملاقات کی اجازت کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئیں ۔
دوسری جانب پشاور کرکٹ سٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس دیکھنے آئے لوگوں نے احتجاج کیا اور صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے آنے والوں کے لیے سٹیڈیم کے دروازے کیوں بند کیے گئے؟ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہم اپنے مسائل پیش کرنا چاہتے تھے، ہمارے لیے دروازے کیوں بند کیے گئے؟
خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے براہ راست آگاہ کرنا اور آگاہی حاصل کرنا ہے ۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ چونکہ اسمبلی کی عمارت دستیاب ہے اس لیے سٹیڈیم میں اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔
ڈاکٹر عباد اللہ خان نے کہا کہ یہ عوامی وسائل کا صریحاً ضیاع ہے، یہ محض سیاسی شو اور نمائشی سرگرمی ہے جس کا عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ۔
اان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور اجلاس کے خلاف عدالت جانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔

