ایران کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ کشیدگی کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اتنی طاقت کے باوجود نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا۔ یہی سوال اس پورے تنازعے کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے اور ہمیں اس سطح پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے جہاں بین الاقوامی سیاست کی روایتی سمجھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ بظاہر دنیا وہی ہے، طاقتیں وہی ہیں، ہتھیار وہی ہیں، مگر ایک بنیادی چیز بدل چکی ہے: طاقت اور نتیجے کے درمیان وہ براہِ راست تعلق اب باقی نہیں رہا جو کبھی جنگوں کو فیصلہ کن بناتا تھا۔ یہی تبدیلی اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے پاس عسکری، معاشی اور تکنیکی برتری اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف ہر وہ ذریعہ استعمال کیا ہے جو ایک طاقتور ریاست کے اختیار میں ہوتا ہے۔ سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں، ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے محدود کیا گیا، سفارتی سطح پر اسے تنہا کرنے کی کوشش کی گئی، اور ضرورت پڑنے پر محدود فوجی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ ان اقدامات کا مقصد واضح تھا: ایران کو اس کی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا، اس کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا، اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا۔ اگر روایتی منطق کے مطابق دیکھا جائے تو یہ تمام اقدامات کسی بھی ریاست کو جھکانے کے لیے کافی ہونے چاہئیں تھے، مگر ایران کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سوال اور زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے۔
اس سوال کا جواب ہمیں طاقت کے تصور کو دوبارہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا اصل مطلب صرف وسائل یا ہتھیاروں کی موجودگی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ایک ریاست اپنے مخالف کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے یا نہیں۔ ایران کے معاملے میں یہی نہیں ہو پا رہا۔ دباؤ موجود ہے، نقصان بھی ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود فیصلہ تبدیل نہیں ہو رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت استعمال تو ہو رہی ہے، مگر وہ اپنے بنیادی مقصد—یعنی سیاسی نتیجہ—حاصل نہیں کر پا رہی۔ اس حقیقت کو ایک سادہ جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ طاقت کی کمی کا نہیں، اس کی تاثیر کی حد کا ہے۔
یہ صورتحال کسی ایک فیصلے یا کسی ایک حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک بڑی ساختی تبدیلی کی علامت ہے۔ جدید جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ ماضی میں جنگ نسبتاً واضح اور فیصلہ کن ہوتی تھی۔ صنعتی طاقت، فوجی برتری اور وسائل کی فراوانی بالآخر کامیابی کی ضمانت بن جاتی تھی۔ مگر آج جنگ کا کردار زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اب صرف تباہی پھیلانا کافی نہیں، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ اس تباہی کو کسی پائیدار سیاسی نتیجے میں تبدیل کیا جائے۔ ایران کے معاملے میں یہی مرحلہ ناکام ہو رہا ہے، اور یہی اس پوری صورتحال کی سب سے اہم وضاحت ہے۔
اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس تنازعے میں کوئی واضح اور قابلِ عمل فوجی راستہ موجود نہیں۔ مکمل جنگ ایک ایسا قدم ہے جس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی کا مطلب صرف ایک علاقائی تصادم نہیں بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور عالمی معیشت پر دباؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مکمل جنگ سے گریز کرتے ہیں اور ایک محدود حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ مگر یہی محدودیت ان کی طاقت کو ادھورا بنا دیتی ہے۔ وہ ایران کو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں، مگر اسے فیصلہ کن طور پر جھکا نہیں سکتے۔ یوں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں طاقت موجود ہوتی ہے، مگر اس کے استعمال کا مؤثر راستہ موجود نہیں ہوتا۔
اس کے ساتھ ساتھ، اس تنازعے میں مفادات کی شدت کا فرق بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ایران کے لیے یہ مسئلہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں بلکہ اس کی خودمختاری اور بقا سے جڑا ہوا ہے۔ جب کوئی ریاست کسی مسئلے کو اپنی بقا سے جوڑ دیتی ہے تو وہ زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ وہ وقتی نقصانات کو قبول کرتی ہے، طویل المدتی حکمتِ عملی اپناتی ہے، اور آسانی سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ ایران اسی اصول پر عمل کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ ایک اہم مگر محدود نوعیت کا اسٹریٹجک مسئلہ ہے۔ انہیں اپنی معیشت، داخلی سیاست، اور عالمی ردعمل کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر ممکن حد تک جانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی فرق اس تنازعے کی سمت کا تعین کرتا ہے اور اسی کی بنیاد پر ایک کمزور ریاست بھی ایک طاقتور اتحاد کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ اور سامنے آتا ہے کہ جدید جنگ میں کامیابی کا مطلب بدل چکا ہے۔ اب جنگ جیتنے سے زیادہ اہم یہ ہو گیا ہے کہ مخالف کو جیتنے نہ دیا جائے۔ ایران نے اسی اصول کو اپنی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کو شکست نہیں دے رہا، مگر انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک رہا ہے۔ یہی اس کی کامیابی ہے، اور یہی اس تنازعے کی سب سے اہم حقیقت ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں شکست اور کامیابی کی روایتی تعریفیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ، اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو عالمی نظام کی نوعیت سے جڑا ہوا ہے۔ آج کی دنیا گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ توانائی، تجارت اور مالیاتی نظام اس حد تک مربوط ہو چکے ہیں کہ کسی ایک خطے میں کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔ ایران ایک ایسے جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں سے عالمی توانائی کے اہم راستے گزرتے ہیں۔ اگر یہاں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں خود بھی ایک حد سے آگے جانے سے ہچکچاتی ہیں، کیونکہ اس کے نتائج ان کے اپنے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس طرح جنگ صرف دو یا تین ریاستوں کے درمیان نہیں رہتی بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی صورتحال پیدا کرتے ہیں جہاں طاقت کا استعمال ایک پیچیدہ اور محدود عمل بن جاتا ہے۔ ریاستیں اب بھی طاقتور ہیں، مگر وہ اپنی طاقت کو مکمل آزادی کے ساتھ استعمال نہیں کر سکتیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کی حدود واضح ہو جاتی ہیں۔ جب ایک ریاست اپنی طاقت کو مکمل طور پر استعمال نہ کر سکے، تو اس کی برتری عملی طور پر محدود ہو جاتی ہے، چاہے وہ نظریاتی طور پر کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔
وقت بھی اس پوری صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جتنا زیادہ تنازع طول پکڑتا ہے، اتنا ہی اس کے اخراجات بڑھتے ہیں—معاشی بھی، سیاسی بھی، اور اسٹریٹجک بھی۔ طاقتور ریاستوں کے لیے یہ اخراجات زیادہ حساس ہوتے ہیں کیونکہ انہیں متعدد محاذوں پر کام کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جو ریاست زیادہ برداشت کر سکتی ہے، وہ وقت کے ساتھ بہتر پوزیشن میں آ جاتی ہے۔ ایران نے اسی حکمتِ عملی کو اپنایا ہے اور وقت کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔
آخرکار، اس پوری صورتحال سے ایک واضح نتیجہ نکلتا ہے: مسئلہ طاقت کی کمی کا نہیں بلکہ اس کی سیاسی تاثیر کی حد کا ہے۔ ریاستیں اب بھی جنگ لڑ سکتی ہیں، نقصان پہنچا سکتی ہیں، مگر وہ اپنے مقاصد کو اسی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا۔ اسی لیے آج کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی طاقت کو مؤثر سیاسی نتیجے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ دوبارہ سامنے آتا ہے: اتنی طاقت کے باوجود نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کی اصل کمزوری اس کی مقدار نہیں بلکہ اس کی حدود ہیں۔ جب طاقت نتائج پیدا نہ کر سکے، تو وہ طاقت رہتے ہوئے بھی اپنی اصل افادیت کھو دیتی ہے۔ یہی اس تنازعے کی اصل کہانی ہے، اور یہی ایک بدلتی ہوئی دنیا کی سب سے واضح نشانی۔
ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل: نتیجہ کیوں نہیں؟ ڈاکٹر حمیرا عنبرین
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read

