دفتر خارجہ پاکستان نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کی افغان وزارت خارجہ میں طلبی کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان کی جانب سے جاری ڈی مارش کو پراپیگنڈا قرار دے دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو ملاقات کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم اس اقدام کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، اور پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے اور دوحہ معاہدہ کا بھی حصہ رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہی معاملہ ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی ترجیحی ایجنڈا رہا، جہاں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی سے مراد عمومی سیز فائر نہیں بلکہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا مطلب ہر قسم کی فائرنگ کو روکنا ہے، چاہے وہ طالبان کی جانب سے ہو یا کسی دہشت گرد تنظیم کی طرف سے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

