کابل :نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ اس کے آپریشنل اور کمانڈو یونٹس گزشتہ دو ماہ سے بدخشاں صوبے کے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں اور طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد جھڑپوں میں شامل رہے ہیں۔
بیان کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران خستک وادی میں فرنٹ کے اڈوں اور پوزیشنوں پر طالبان کی کم از کم چار بڑی کارروائیاں ناکام بنا دی گئیں ہیں۔
آزادی پسند جنگجوؤں نے طالبان جنگجوؤں کو بھاری جانی نقصان پہنچاتے ہوئے پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
ریزسٹنس فرنٹ نے ان کارروائیوں کو افغانستان کی آزادی کی جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے جسے عموماً بہار عملیات یا (spring offensive) کہا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بدخشاں میں فرنٹ کی فعال موجودگی نے دشمن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور طالبان کے “ملک بھر میں امن” کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے خود کو ایک پیشرو سیاسی و فوجی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان عوام کے خودمختار فیصلے کے حق، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
بیان میں جنگ مخالف نام نہاد حلقوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو عملاً طالبان کی حکمرانی کو طول دے رہے ہیں۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ “طالبان کے جرائم کا باب اپنے آخری صفحات پر پہنچ چکا ہے۔ افغان عوام کبھی بھی امن کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھیں گے۔
فرنٹ نے بدخشاں صوبے اور پورے افغانستان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بہادر بیٹوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی بھرپور حمایت کریں۔ اس نے واضح کیا کہ طالبان جاسوس اور پروپیگنڈا کرنے والے کسی بھی جگہ پر فرنٹ کے جنگجوؤں کی رسائی سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

