سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹنے کے واقعے کے بعدکشتی آپریٹر کو گرفتار کرلیا گیا، ریسکیو حکام کے مطابق کشتی حادثہ میں لاپتہ ہونے والی لڑکی کی تلاس کیلئے ریسکیو آپریشن چوتھے روز بھی جاری رہا ۔
سوات: رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ کشتی آپریٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، ریسکیو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ جھیل حادثے میں لاپتا لڑکی کی تلاش کیلئے چوتھے روز بھی سرچ آپریشن جاری رہا ۔
ریسکیو حکام کے مطابق کشتی الٹنے سے 6 افراد جاں بحق ہوئے اور 2 افراد کو بچالیا گیا تھا، کشتی میں لاہور سے تعلق رکھنے والےایک ہی خاندان کے 9 افراد سوار تھے ۔
یکم جولائی کو لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر ہندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ اُلٹ گئی ۔
اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں سابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل، اُن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ ہندل، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا ہندل اور 23 سالہ رویل ہندل، جبکہ پروا ہندل کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں ۔

