بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران 21 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران اور کسٹمز کے ایک سرکاری اہلکار سمیت 6 بہادر اہلکار شہید ہو گئے ۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب نوکچا، ضلع چاغی اور زیارت کراس، ضلع پشین میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں ۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 31 اگست کو فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے این-40 کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مسافروں کی پرامن آمدورفت میں خلل ڈالنے کے لیے بھتہ خوری کی غرض سے غیر قانونی ناکہ قائم کرنے کی کوشش کی ۔
بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مربوط حملے کے ذریعے کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔
سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیتے ہوئے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، فرار ہونے والے دہشت گردوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں انہیں مزید جانی نقصان اٹھانا پڑا، کسٹمز ہاؤس پر حملہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر تھا، جس کا مقصد کسٹمز حکام کو قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنا اور علاقے میں جرائم پیشہ سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا ۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے 6 بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا، جن میں دو افسران اور محکمہ کسٹمز کا ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے ۔
گرد و نواح کے علاقوں میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے اور مقامی آبادی سمیت اہم قومی شاہراہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی ۔

