Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 31, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    • مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک
    • پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے روڈ میپ کیلئے استنبول میں ہہلا اجلاس
    • انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دیدی
    • پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    اہم خبریں اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    کراچی: سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ، کئی اداروں میں سنگین خامیاں سامنے آگئیں۔

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ میں کئی اداروں میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔

    ان خامیوں نے آگ سے بچاؤ اور مریضوں کے محفوظ انخلا کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے۔

    رپورٹ کے مطابق بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز جیسے بنیادی حفاظتی انتظامات تک موجود نہیں۔

    سول ہسپتال کراچی میں 180 فائر ایکسٹنگویشرز فعال ہیں تاہم فائر الارم اور سپرنکلرز موجود نہیں۔

    1750 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی الیکٹرک وائرنگ بھی مرمت کی متقاضی ہے۔

    اسی طرح جناح ہسپتال میں 208 فائر ایکسٹنگویشرز فعال ہیں مگر وہاں بھی فائر الارم اور سپرنکلرز کا نظام موجود نہیں۔

    2208 بستروں کے ہسپتال کی وائرنگ کی مرمت کی ضرورت ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان ہسپتالوں میں فائر ڈرلز باقاعدگی سے کی جاتی ہیں۔

    این آئی سی ایچ میں 135 فائر ایکسٹنگویشرز میں سے 40 خراب ہیں اور 533 بستروں کے اس ہسپتال میں فائر الارم موجود نہیں۔

    فائر ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہاں الیکٹرک وائرنگ کو بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سندھ کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔

    اس وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    این آئی سی ایچ جناح ہسپتال سندھ کے سرکاری ہسپتال سول ہسپتال کراچی فائر الارم فائر سپرنکلرز فائر سیفٹی فائر سیفٹی رپورٹ کراچی ہسپتال ہسپتال سیفٹی
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    Saqib Butt

    Related Posts

    بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ

    اگست 31, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اگست 31, 2026

    پاکستان نے قبل ازوقت قرض کی سب سے بڑی ادائیگی کر دی

    اگست 30, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026

    بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ

    اگست 31, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اگست 31, 2026

    مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.