اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کچی کینال فیز ٹو کے منصوبے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی اراضی، علامہ اقبال یادگار اور اقبال لائبریری سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں لورالائی اور ژوب کو ملانے والے 35 کلومیٹر سڑک منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم کی ہدایات پر منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
کچی کینال منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
حکومت بلوچستان کو تمام دستیاب آپشنز پر اعتماد میں لیا جائے تاکہ منصوبے کو مؤثر اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
پی آئی ڈی ای کی اراضی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے سی ڈی اے کی جانب سے اراضی کی فراہمی میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
علامہ اقبال یادگار اور اقبال لائبریری منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ لائبریری بین الاقوامی معیار کی حامل اور دیگر شہروں کے لیے رول ماڈل ہوگی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ سال علامہ اقبال کا سال منائے جانے کے پیش نظر منصوبے پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے سی ڈی اے کو اقبال لائبریری سے متعلق سمری تین روز کے اندر موو کرنے کی ہدایت کی۔
احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو تمام منصوبوں اور امور پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

