اسلام آباد: ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں علامتی احتجاج کے 16 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ہر مظاہرے میں شرکاء کی اوسط تعداد 100 سے کم رہی۔
رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے محاذ آرائی پر مبنی سیاسی بیانیے اور زمینی سطح پر عوامی ردِعمل کے درمیان فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی مداخلت سے قبل مزاحمت کی اپیلوں اور بڑے پیمانے پر احتجاج کی پیش گوئیوں کے باوجود کوئی مؤثر احتجاجی تحریک سامنے نہیں آئی۔
باڑہ میں 500 سے زائد افراد کا احتجاج
باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 500 سے زائد افراد کی شرکت کا واحد بڑا احتجاج 13 اکتوبر کو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہوا، جو سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقۂ انتخاب میں واقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کی کارروائی کے بعد اجتماع منتشر ہوگیا۔
رپورٹ میں محدود احتجاجی ردِعمل کی وجوہات میں صوبائی حکومت کی کارکردگی، ترقیاتی کاموں اور سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق عوامی عدم اطمینان کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو صوبے میں طویل عرصے سے اقتدار حاصل ہونے کے باوجود عوامی سطح پر امن و امان اور ترقیاتی امور کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔
سکیورٹی صورتحال اور حکومتی کارکردگی پر تحفظات
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور جانی نقصانات میں اضافے، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں خامیوں اور صوبائی حکومت کے ردِعمل کو سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے ناکافی قرار دیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ریاست کے ساتھ محاذ آرائی میں شامل ہونے کے بجائے معمولاتِ زندگی اور امن و امان کی بحالی کو ترجیح دیتی دکھائی دی۔
پی ٹی آئی میں مذاکرات کی حمایت کا دعویٰ
رپورٹ میں پارٹی کارکنوں کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے صوبائی اور قومی سطح کے منتخب نمائندوں کی اکثریت مذاکرات اور مطالبات پر بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کے حق میں تھی۔
رپورٹ کے مطابق بعض غیر منتخب شخصیات مبینہ طور پر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے محاذ آرائی کی حمایت کرتی رہیں۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ افراد کا مؤقف فراہم کردہ متن میں شامل نہیں ہے۔
وفاقی مداخلت اور ریاستی عمل داری
رپورٹ میں وفاقی مداخلت کو خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مداخلت کے بیان کردہ مقاصد میں مؤثر طرزِ حکمرانی کی بحالی، ریاستی عمل داری کا قیام اور شہریوں کا تحفظ شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ریاستی اختیار کے خلاف تشدد یا غیر قانونی مزاحمت سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
سیاسی بیانیے اور عوامی ردِعمل میں فرق
رپورٹ کے اختتامی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مزاحمت کی اپیلوں کے باوجود محدود احتجاجی سرگرمیاں پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے اور عام شہریوں کی جانب سے محاذ آرائی میں حصہ لینے کی آمادگی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کا محدود رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی قیادت کی اپیلیں وسیع عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ تاہم، صوبے میں عوامی رائے، سیاسی حمایت اور احتجاجی سرگرمیوں کی مکمل تصویر جاننے کے لیے آزادانہ اور جامع شواہد بھی اہم ہوں گے۔

