پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں اور دو خواتین اساتذہ سمیت 30 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے بھاری مشینری کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کی انتظامیہ کے مطابق 28 بچوں اور دو خواتین اساتذہ کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 40 زخمی بچوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 10 کو نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے
سی سی پی او پشاور کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں تقریباً 110 بچے موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار ملبے میں دبے مزید بچوں اور اسکول کے عملے کی تلاش میں مصروف رہے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے اور حکام کے مطابق اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔
حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکول کی عمارت کی ساخت، حادثے کی وجوہات اور انتظامی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لے کر 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔
تحقیقات کا مقصد حادثے کے اسباب کا تعین کرنے کے ساتھ ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا بھی ہے۔
سیاسی و حکومتی قیادت کا اظہارِ افسوس
پشاور کے نجی اسکول میں پیش آنے والے المناک حادثے پر ملک کی سیاسی و حکومتی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور حادثے کی وجوہات کا فوری تعین کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
مریم نواز نے غمزدہ والدین کے دکھ میں شریک ہونے کا اظہار کیا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو زخمی بچوں کے بروقت اور بہتر علاج کی ہدایت کی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات
اس المناک حادثے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، معیار اور دیکھ بھال سے متعلق حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ آیا عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار یا دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت اس حادثے کا سبب بنی۔
ذمہ داروں کا تعین اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کا مؤثر جائزہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

