Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں سمیت 30 افراد جاں بحق
    خاص خبریں اکتوبر 15, 2026

    پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں سمیت 30 افراد جاں بحق

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں اور دو خواتین اساتذہ سمیت 30 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے بھاری مشینری کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔

    لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کی انتظامیہ کے مطابق 28 بچوں اور دو خواتین اساتذہ کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 40 زخمی بچوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 10 کو نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

    حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے

    سی سی پی او پشاور کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں تقریباً 110 بچے موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار ملبے میں دبے مزید بچوں اور اسکول کے عملے کی تلاش میں مصروف رہے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

    پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے اور حکام کے مطابق اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔

    حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم

    خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکول کی عمارت کی ساخت، حادثے کی وجوہات اور انتظامی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لے کر 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔

    تحقیقات کا مقصد حادثے کے اسباب کا تعین کرنے کے ساتھ ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا بھی ہے۔

    سیاسی و حکومتی قیادت کا اظہارِ افسوس

    پشاور کے نجی اسکول میں پیش آنے والے المناک حادثے پر ملک کی سیاسی و حکومتی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور حادثے کی وجوہات کا فوری تعین کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

    مریم نواز نے غمزدہ والدین کے دکھ میں شریک ہونے کا اظہار کیا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔

    صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو زخمی بچوں کے بروقت اور بہتر علاج کی ہدایت کی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات

    اس المناک حادثے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، معیار اور دیکھ بھال سے متعلق حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ آیا عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار یا دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت اس حادثے کا سبب بنی۔

    ذمہ داروں کا تعین اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کا مؤثر جائزہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
    Next Article پشاور اسکول حادثہ، خیبر پختونخوا میں 13 سالہ حکومتی کارکردگی پر سوالات
    Web Desk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.