اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ای یو.کے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت، اقتصادی امور، جی ایس پی پلس، افغانستان، سیکیورٹی، بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی، پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا ۔
دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی ۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا ۔

