Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس
    • خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں
    • متحدہ عرب امارات پر حملوں میں ایک اور پاکستانی جاں بحق
    • افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک
    • ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر
    • آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا
    اہم خبریں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا

    دسمبر 12, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں بری کر دیا۔ منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ  نےالعزیزیہ ریفرنس میں میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ بعدازاں، عدالت عالیہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سزا کے خلاف اپیل منظور کرلی اور نواز شریف کو بری کر دیا۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال سزا سنائی تھی،تاہم، اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    سماعت کی تفصیل

    منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف عدالت میں حاضر ہوئے۔ ان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صرف زیر کفالت کے ایک نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں، تاہم، وکیل نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نوازشریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے شواہد نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ ، امجد پرویز نے بتایا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ بار ثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ پانامہ کیس میں حسین نواز کی متفرق درخواستوں کے فیصلے پر انحصار کیا گیا، درخواستیں تسلیم کر لیں تب بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نوازشریف مل مالک ہیں، انہی متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے بھی انحصار کیا ہے، ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔

    وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا،  حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نوازشریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا۔

    امجد پرویز نے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں ہے کہ مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے، فیصلوں کے مطابق مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں، فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے نہ کہ ملزم پر، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا، یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ ملکیت کو استغاثہ نے ثابت کرنا تھا، استغاثہ نے ہی عوامی عہدہ رکھنے والا ثابت کرنا تھا، استغاثہ نے آمدن سے زائد اثاثے کو ثابت کرنا تھا، نوازشریف کیخلاف زبانی یا دستاویزی کوئی شواہد نہیں، بے نامی کا بار ثبوت تو ملزم پر منتقل ہوتا ہی نہیں۔

    نیب کے پراسکیوٹر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی، 28 جولائی کے فیصلے کے بعد نیب نے اپنی تفتیش کی،  اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے 2، 3 طریقے ہی ہوتے ہیں،  ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، ریکارڈ میں 161 کے بیانات بھی شامل ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے تجزیہ کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ واجد ضیا تو خود مان رہے ہیں کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، تاہم، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے تجزیے کی بنیاد پر ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس دستاویز سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس: "ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟”, جسٹس منصور
    Next Article سیکورٹی اداروں نے افغانستان سے جدید اسلحہ پاکستان اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنا دی
    Web Desk

    Related Posts

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 17, 2026

    خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    مارچ 17, 2026

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں

    مارچ 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 17, 2026

    خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    مارچ 17, 2026

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں

    مارچ 17, 2026

    متحدہ عرب امارات پر حملوں میں ایک اور پاکستانی جاں بحق

    مارچ 17, 2026

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.