Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کو دنیا سے مٹانے کی دھمکی جنون کی انتہا ہے، آئی ایس پی آر
    • افغان مذاحمتی این آر ایف کا طالبان حکومت کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اعلان
    • خیبرپختونخوا کابینہ کے نئے اراکین نے حلف اٹھا لیا
    • پُرامن، روادار اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کے لئے پُرعزم ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    • پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
    • غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت، ایس آئی ایف سی کو بااختیار بنانے کا فیصلہ
    • شہید لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، محسن نقوی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا
    اہم خبریں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا

    دسمبر 12, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ( ن ) کے قائد نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں بری کر دیا۔ منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ  نےالعزیزیہ ریفرنس میں میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ بعدازاں، عدالت عالیہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سزا کے خلاف اپیل منظور کرلی اور نواز شریف کو بری کر دیا۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال سزا سنائی تھی،تاہم، اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    سماعت کی تفصیل

    منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف عدالت میں حاضر ہوئے۔ ان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صرف زیر کفالت کے ایک نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں، تاہم، وکیل نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نوازشریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے شواہد نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ ، امجد پرویز نے بتایا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ بار ثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ پانامہ کیس میں حسین نواز کی متفرق درخواستوں کے فیصلے پر انحصار کیا گیا، درخواستیں تسلیم کر لیں تب بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نوازشریف مل مالک ہیں، انہی متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے بھی انحصار کیا ہے، ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔

    وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا،  حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نوازشریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا۔

    امجد پرویز نے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں ہے کہ مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے، فیصلوں کے مطابق مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں، فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے نہ کہ ملزم پر، ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا، یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ ملکیت کو استغاثہ نے ثابت کرنا تھا، استغاثہ نے ہی عوامی عہدہ رکھنے والا ثابت کرنا تھا، استغاثہ نے آمدن سے زائد اثاثے کو ثابت کرنا تھا، نوازشریف کیخلاف زبانی یا دستاویزی کوئی شواہد نہیں، بے نامی کا بار ثبوت تو ملزم پر منتقل ہوتا ہی نہیں۔

    نیب کے پراسکیوٹر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی، 28 جولائی کے فیصلے کے بعد نیب نے اپنی تفتیش کی،  اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے 2، 3 طریقے ہی ہوتے ہیں،  ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، ریکارڈ میں 161 کے بیانات بھی شامل ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے تجزیہ کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ واجد ضیا تو خود مان رہے ہیں کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، تاہم، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے تجزیے کی بنیاد پر ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس دستاویز سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس: "ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟”, جسٹس منصور
    Next Article سیکورٹی اداروں نے افغانستان سے جدید اسلحہ پاکستان اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنا دی
    Web Desk

    Related Posts

    ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کو دنیا سے مٹانے کی دھمکی جنون کی انتہا ہے، آئی ایس پی آر

    مئی 17, 2026

    افغان مذاحمتی این آر ایف کا طالبان حکومت کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اعلان

    مئی 17, 2026

    خیبرپختونخوا کابینہ کے نئے اراکین نے حلف اٹھا لیا

    مئی 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کو دنیا سے مٹانے کی دھمکی جنون کی انتہا ہے، آئی ایس پی آر

    مئی 17, 2026

    افغان مذاحمتی این آر ایف کا طالبان حکومت کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اعلان

    مئی 17, 2026

    خیبرپختونخوا کابینہ کے نئے اراکین نے حلف اٹھا لیا

    مئی 17, 2026

    پُرامن، روادار اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کے لئے پُرعزم ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف

    مئی 16, 2026

    پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

    مئی 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.