اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کے چار سالہ دورِ حکومت کے دوران گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یو این امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) کے مطابق سال 2025 کے دوران افغانستان میں کم از کم 123 سابق فوجی اہلکار قتل کیے گئے جبکہ 131 افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 دسمبر کو ایک سابق افغان کمانڈر کو تہران میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک افغان انٹیلی جنس اہلکار نے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
یو این مشن کا کہنا ہے کہ 2021 کے بعد سے افغانستان میں بلاجواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں، جبکہ صرف 2023 میں تقریباً 200 سابق افغان فوجیوں کو قتل کیا گیا۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے بھی 2021 کے بعد افغانستان میں جبری گمشدگیوں اور قتل کے متعدد واقعات کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم کے مطابق ستمبر 2025 کے اختتام پر قندھار میں طالبان فورسز نے سابق فوجی اہلکار باز محمد کو گرفتار کیا، جس کے چند روز بعد ان کی لاش ورثا کے حوالے کی گئی۔
ہیومن رائٹس واچ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

