Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اے سی سی انتخابات، پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست دیدی
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا اہم دورہ کریں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
    • ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » باگرام ایئربیس: پاکستان کے جوہری اثاثوں کے خلاف نئی عالمی سازش؟
    بلاگ مارچ 28, 2025

    باگرام ایئربیس: پاکستان کے جوہری اثاثوں کے خلاف نئی عالمی سازش؟

    Facebook Twitter Email
    Bagram Air Base: New global conspiracy against Pakistan's nuclear assets
    یہ سب ایک بڑی مہم کا حصہ ہے، اور باگرام ایئربیس کو کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے فعال کیا جا سکتا ہے۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور(خالد خان)باگرام ایئربیس ایک بار پھر عالمی سیاست اور سیکیورٹی ترجیحات کا مرکز بن چکا ہے اور اس بار اس کے پیچھے چھپے عزائم صرف افغانستان تک محدود نہیں دکھائی دے رہے۔ امریکہ میں طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی سرگوشیوں اور کچھ مخصوص حلقوں کے اقدامات کو دیکھ کر یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ اس بیس کو پاکستان کے جوہری اثاثوں کو غیر مؤثر بنانے کے ایک بڑے منصوبے کے تحت فعال کیا جا رہا ہے۔ واقعات کی ترتیب ایک ایسی تصویر پیش کر رہی ہے جو کسی منظم حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "ہمیں باگرام اس لیے واپس چاہیے کیونکہ ہمیں پڑوسی خطرات پر نظر رکھنی ہے،” تو سوال اٹھتا ہے کہ وہ کون سا پڑوسی ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے؟ جواب واضح ہے۔۔۔پاکستان۔

    یہ محض اتفاق نہیں کہ امریکی پالیسی سازوں کے بیانات اور اقدامات پاکستان کے جوہری اثاثوں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ مائیک والٹز، جو قومی سلامتی کے امور پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور سابق گرین بیریٹ کمانڈو بھی رہ چکے ہیں، افغانستان میں امریکی موجودگی کو طالبان کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹیجک بیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان پر نگرانی رکھنا ضروری ہے۔ مائیک پومپیو، جو ماضی میں سی آئی اے کے سربراہ اور امریکی وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، بظاہر منظر سے غائب ہیں، مگر امریکی اسٹیبلشمنٹ میں ان کا اثر آج بھی برقرار ہے۔ وہ کھلے عام یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثے بین الاقوامی کنٹرول میں ہونے چاہئیں۔

    یہی نہیں، پیٹ ہیگستھ، جو امریکی وزیر دفاع ہیں، نے بگرام میں امریکی فوجی سرگرمیوں کو دوبارہ تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر اس اقدام کو داعش کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر داخلی اطلاعات کچھ اور کہانی بیان کرتی ہیں۔ یہ سب ایسے اشارے ہیں جو کسی بڑے منصوبے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی گواہی دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان ہی کیوں نشانے پر ہے؟ اس کا جواب کئی عوامل میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان کے پاس 170 سے زائد ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور مغربی دنیا اسے ایک غیر متوقع جوہری طاقت تصور کرتی ہے، جس پر ان کا مکمل کنٹرول نہیں۔ اس تناظر میں، گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اچانک اضافہ بھی ایک خاص حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں اور تحریک طالبان پاکستان کے حملے کیوں بڑھ گئے ہیں؟ کیا یہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان ایک غیر مستحکم ریاست ہے اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں کو عالمی کنٹرول میں لیا جانا چاہیے؟ باگرام ایئربیس کی لوکیشن بھی ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔ یہ پاکستان کی سرحد کے قریب ہے، جہاں سے کسی بھی فوجی کارروائی کو برق رفتاری سے انجام دیا جا سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی مواقع پر مختلف حربے استعمال کیے گئے تاکہ پاکستان کو ایک غیر محفوظ جوہری ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ نیا نہیں، بلکہ لیبیا کے ماڈل کی ایک جھلک دکھائی دیتا ہے، جہاں پہلے ملک میں بدامنی اور انتشار کو ہوا دی گئی، پھر عالمی میڈیا میں یہ بیانیہ پھیلایا گیا کہ لیبیا کے ہتھیار عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، اور بالآخر بین الاقوامی مداخلت کے ذریعے اس ملک کو مکمل طور پر غیر مستحکم کر دیا گیا۔ یہی ماڈل آج پاکستان پر آزمایا جا رہا ہے۔

    اگر آنے والے مہینوں میں پاکستان میں دہشت گرد حملے مزید بڑھ جاتے ہیں، اچانک عالمی میڈیا میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے کی خبریں پھیلنے لگتی ہیں، یا کسی قسم کا "جوہری سیکیورٹی لیک” سامنے آتا ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ سب ایک بڑی مہم کا حصہ ہے، اور باگرام ایئربیس کو کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے فعال کیا جا سکتا ہے۔

    یہ سب ایک منظم کھیل دکھائی دیتا ہے جس میں کئی اہم کردار شامل ہیں۔ والٹز وہ شخص ہے جو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سفارتی اور فوجی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہیگستھ وہ شخصیت ہے جو امریکی فوجی طاقت کے عملی مظاہرے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ پومپیو وہ دماغ ہے جس نے مسلم دنیا میں جوہری طاقت کے مکمل خاتمے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس ممکنہ چال کے خلاف کیا حکمت عملی اپناتا ہے؟ وقت کم ہے، اور اگر پاکستان میں مزید عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے، تو یہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے ایک جواز پیدا کر سکتا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے، اور پاکستانی ریاست اور عوام کو اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستانی ہر سال 619 ارب روپے زکوٰۃ دیتے ہیں!
    Next Article میانمار اور بینکاک میں 7.7 شدت کا زلزلہ، 144 افراد ہلاک، کئی عمارتیں اور پل منہدم، کئی لوگ لاپتہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اے سی سی انتخابات، پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست دیدی

    اگست 23, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا اہم دورہ کریں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    اگست 23, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.