Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, ستمبر 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں
    • وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت
    • پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت
    • وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا
    • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے
    • وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
    • بلوچ خواتین بلوچستان کے روشن مستقبل کی امید ہیں، صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو
    • شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا میں خناق سے اموات کی تعداد 30 ہوگئی
    اہم خبریں دسمبر 13, 2024

    خیبر پختونخوا میں خناق سے اموات کی تعداد 30 ہوگئی

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور (زاہد عثمان) خیبر پختونخوا میں خناق کی بیماری نے ڈیرے 550 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جسمیں 30 موت کے منہ میں جاچکے ہیں،ای پی آئی ڈیٹا کے مطابو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے خناق کے رپورٹ شدہ مریضوں میں 89 فیصد کی عمر ویکیسن کے لئے مختص عمر پانچ سال سے زائد ہیں،رپورٹ شدہ گیارہ فیصد کیسز میں سارے وہ بچے شامل ہیں جنکو ویکیسن لگائی گئی تھی مگر عمر کے ساتھ قوت مدافعت میں تبدیلی کی وجہ سے وہ بھی خناق کے شکار ہوگئے ہیں،خیبر پختونخوا میں خناق کی بیماری سے متاثرہ ایک مریض کی عمر 42 سال ہے اس سے پہلے رپورٹ شدہ کیسوں میں 68 سال کی عمر تک ایک مریض میں یہ بیماری رپورٹ ہو چکی ہے،خیبر پختونخوا میں خناق تقریباً ختم ہونے کے قریب تھی صوبے کے 90 فیصد علاقوں کو اس مد میں کلئیر قرار دیا گیا تھا،لیکن پھر سے اس بیماری کا سر اُٹھانا اس بات کی عکاس ہے کہ کہیں نہ کہیں ای پی آئی ٹیکنیشنز اور ورکرز سے غفلت ہوئی ہے یا انھوں نے اپنی ڈیوٹی کو بلائے تاک رکھا ہے جس سے اس قسم کی صورتحال بن رہی ہے دوسری جانب ای پی آئی کی طرف سے اسکو یقینی بنانے کا کوئی خاص نظام موجود نہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کون کتنی ڈیوٹی دے رہا ہے اور اگر اُسنے ڈہوٹی صحیح انداز سے دی ہے یہ سچ ہے یا جھوٹ،ڈبلیو ایچ او کے طے شدہ معیار کے مطابق ای پی آئی ٹیکنیشنز اور ورکرز آوٹ ریچ میں ہر مہینہ کم سے کم اپنے علاقوں کے 16 دورے کریگیں اور اس حوالے سے رپورٹ جمع کرینگے،مگر خیبر پختونخوا میں "پی او ایل”یعنی پیٹرول اور آئل کی مد میں الاونس ملتا تھا جو چند عرصہ پہلے تک نہیں ملتا تھا کہا جاتا تھا فنڈز نہیں ہیں مگر اب محکمے صحت نے اس ضمن میں 200 ملین روپے جاری کئے ہیں ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اصغر کے مطابق پی او ایل ورکرز کی جیبوں تک پہنچ چکی ہے،ای پی آئی ریکارڈ کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں 35 فیصد لوگ ڈیفالڈ کیٹگری میں فال کررہے ہیں یعنی 35 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو ایک بھی ویکیسن نہیں لگائی اور ویکیسن لگانے والوں کی تعداد 60 فیصد ہے،ڈبلیو ایچ او کا طے کردہ معیار 90 فیصد ہے، جس سے صاف ظاہر ہے خیبر پختونخوا اس معاملے میں بہت پیچھے ہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہت کام اور سنجیدگی کی ضرورت ہے،مگر دوسری جانب ایک سرکاری زرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ ڈیفالٹر بچوں کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہے جو اس معاملے کو اور بھی خطرناک بناتا ہے،ڈبلیو ایچ او کے طے کردہ معیار کے مطابق ہر سال چار مہمات یا معمولات ضروری ہیں اسکے ساتھ ویکیسن سے محروم رہنے والے بچوں کے لئے تین کیچ اپ مہمات بھی ضروری یے مگر خیبر پختونخوا میں ابتک دو مہمات اور ایک کیچ اپ ہوا ہے،تیسرا معمول دسمبر کے آخری عشرے میں پلان کے تحت ہونے جارہا ہے،
    سرکاری زرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ویکیسن کے لئے ایک منیجمنٹ نظام بنایا گیا تھا جسکو "نیشنل الیکٹرانک ایمیونائزیشن ریگولیٹری” یعنی این ای آئی آر کا نام دیا گیا ہے تقریباً ایک سال پہلے بنایا تھا مگر اب اُسکی حالت یہ ہے کہ وہ تقریباً غیر فعال ہوگیا ہے،اور یہ کہ ورکرز یا ای پی آئی ٹیکنشینز ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتے اسلئے مسائل جنم لے رہے ہیں اُنکے کام کو منیٹر کرنے کا مستقل نظام موجود نہیں،کیونکہ ہر آوٹ ریچ پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے علاقے کے تین کلو میٹر کے باہر کے طے شدہ دورے کرے اور جو صورتحال اب بنی ہے ایسے میں وہ تین کلو میٹر کے اندر بھی اپنی ڈیوٹی انجام دینے کا پابند ہے مگر ایسا نہیں ہورہا اسلئے مسائل بڑھ رہے ہیں
    ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اصغر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خناق کی بیماری کے دوران لگنے والی” اے ڈی ایس” یعنی اینٹی ڈیفتیریا سیرم صوبے کے چاروں ریجنز کو پہنچا دی گئی ہے،اب سوات،ڈی آئی خان،بنوں اور ایبٹ آباد میں اے ڈی ایس دستیاب ہے اسکے علاوہ پشاور میں پہلے سے موجود ہے،اس سے پہلے یہ سیرم صرف پشاور میں دستایب ہے،انکا مزید کہنا تھا گو کہ اے ڈی ایس کی دستیابی ہمارا کام نہیں اسکا تعلق علاج سے ہے اور ہمارا کام علاج کرنا نہیں محفوظ بنانا ہے،ہمارا کام مرض لگنے سے روکنا ہے نہ کہ بیماری کا علاج کرنا،مگر پھر بھی ہم نے اے ڈی ایس کو یقینی بنایا ہے
    ڈائریکٹر ای پی آئی کا مزید کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور ویکیسن کو ہر صورت بلاناغہ لگوائیں تاکہ بچے ان تمام 12 بیماریوں سے محفوظ رہیں جنکی ویکیسن ای پی آئی کے تحت لگائے جاتے ہیں،اور یہ کہ بیماری کے اعداد و شمار کو چھپا کر بیماری قطعاً ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک بیماری کے مستند اعداد و شمار سامنے نہیں آئینگے تب تک مسائل برقرار رہیں گے

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleفنکاروں کے نام پہ مالی فوائد حاصل کرنیوالے عناصر کی بھرپور مذمت کرتا ھوں۔۔ نجیب اللہ انجم
    Next Article ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلی، 11 اشیاء کی قیمتوں میں کمی، 18 میں اضافہ
    Web Desk

    Related Posts

    مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے

    ستمبر 3, 2026

    وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

    ستمبر 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مہنگائی پر حکومت سے آر پار کا فیصلہ؟ جماعت اسلامی کی نئی شرائط سامنے آ گئیں

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تعزیت

    ستمبر 3, 2026

    پاسکو فوری طور پر صوبوں کو گندم کی فراہمی یقینی بنائے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت

    ستمبر 3, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین بھی پیش کیا

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کردیے

    ستمبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.