وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ڈرافٹ میں کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبہ نہیں تھا، سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی پر اتفاق کیا جائے، جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے کچھ امور پر اتفاق کیا جائے ۔
سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پر وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد ڈرافٹ شیئر کیا اور کہا کہ وزیرِ اعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے، ملاقات میں تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات پر بات کی جائے، زیرِ التوا امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم حکومتی اتحاد، پیپلزپارٹی، اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ مذاکراتی کمیٹی بنادیں، جیل مینول،مروجہ قوانین کےمطابق عمران خان، بشریٰ بی بی کو حقوق دیے جائیں، مروجہ قوانین کےمطابق قانونی،انسانی، طبی حقوق بلاامتیاز دیے جائیں، ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہو، ملاقات کی سہولت کو سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے ۔
سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے، یاسمین راشد، بشریٰ بی بی سمیت سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پررہا کیا جائے، تمام سیاسی اورقومی معاملات باہمی مشاورت اور مذاکرات سے حل کیے جائیں ۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی ایک ماہ میں قابلِ عمل سفارشات پیش کرے، جمہوریت، سیاست، عدلیہ اورآزادی صحافت مکمل طور پر یقینی بنائی جائے، وفاق کی تحریری یقین دہانی پر پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی ۔

