Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    • حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار
    • سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان
    • پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک
    • افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
    • سرحدی دہشت گردی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بفر زون حکمت عملی سامنے آگئی
    • پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شیخ حسینہ کے دور میں بنگلہ دیش میں فاشزم کو پروان چڑھایا گیا
    بین الاقوامی

    شیخ حسینہ کے دور میں بنگلہ دیش میں فاشزم کو پروان چڑھایا گیا

    دسمبر 18, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Fascism was fostered in Bangladesh under Sheikh Hasina
    متاثرین کو مختلف یونٹس کے درمیان منتقل کیا گیا، ایک نے اغوا کیا، دوسرےنے حراست میں لیا اور تیسرےنے انہیں قتل کیا،رپورٹ
    Share
    Facebook Twitter Email

    ڈھاکہ:  شیخ حسینہ کی حکومت نے اپوزیشن کو کچلنے، میڈیا کو خاموش کرنے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف غیر قانونی طریقے اپنانے میں بدنامی حاصل کی ہے، جن میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی اور رپیڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے ظالمانہ حربے شامل ہیں۔

    ریپڈ ایکشن بٹالین (بنگلہ دیش) RAB، جو اصل میں 2004 میں انسداد جرائم کے یونٹ کے طور پر تشکیل دی گئی تھی، اپنے مینڈیٹ سے انحراف کر چکی ہے،  حزب اختلاف کی شخصیات، خاص طور پر جماعت اسلامی کے اراکین کو ہراساں کرنے، تشدد کرنےاور یہاں تک کہ ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے۔

    حسینہ واجد  کی حکومت نے ریاستی طاقت کو اپنے ناقدین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہے، حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو فرضی الزامات پر سزائے موت دی گئی۔

    جبر کے تحت لاپتہ ہونے والوں پر تحقیق کرنے والی پانچ رکنی کمیشن نے شیخ حسینہ کو جبر کے تحت غائب ہونے والوں سے جوڑا ہے، اور RAB کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا ہے۔ عبوری رپورٹ "سچ کا انکشاف” میں 3،500 سے زائد گمشدگیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور RAB کو تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    کمیشن کی تحقیقات میں بنگلہ دیش کی سرفہرست سیکیورٹی یونٹس (RAB، DB، CTTC) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو منظم طریقے سے جبر کے تحت گمشدگیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔

    جبر کے تحت لاپتہ ہونے کے 3،500 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 1،676 شکایات درج کی گئی ہیں اور 758 کی تحقیقات کی جا چکی ہیں، اذیت دینے کے طریقے، جیسے متاثرین کے ہونٹ سی دینا، جنسی اعضاء کو بجلی کے جھٹکے دینا اور جسمانی تشدد کرنا، معمول بن گئے تھے۔

    سیکیورٹی فورسزبشمول RAB، DB، اور CTTC، اور انٹیلی جنس ایجنسیوں جیسے DGFI اور NSI کو اہم مجرموں کے طور پر شناخت کیا گیا،”گوم کلچر”، جو جبر کے تحت گمشدگیوں کا ایک اصطلاح ہے، کو 15 سال سے زیادہ عرصے تک چھپانے کے لیے جان بوجھ کر ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ذمہ داری سے بچنے کے لیے مختلف شناختوں کے تحت کام کیا (RAB نے DB کے طور پر اور DB نے RAB کے طور پر کام کیا)۔

    متاثرین کو مختلف یونٹس کے درمیان منتقل کیا گیا، ایک نے اغوا کیا، دوسرےنے حراست میں لیا اور تیسرےنے انہیں قتل کیا، جس سے ذمہ داری کو ٹریس کرنا مشکل ہو گیا۔

    اعلیٰ افسران کو ان آپریشنز کے بارے میں ممکنہ طور پر آگاہی تھی لیکن بار بار کی گھوم پھیر اور آپریشنل حدود کی کمی نے احتساب کو مشکل بنا دیا۔

    2016 میں جبر کے تحت گمشدگیوں کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی گئی، اہم مقامات جہاں سزائیں دی گئیں ان میں بوری گنگا، کنچن اور پوسٹگولا پل شامل ہیں۔

    میجر جنرل طارق احمد صدیقی، میجر جنرل ضیاالاحسن، منیرالاسلام ، محمد حرن اور رشید کو ان جرائم میں ملوث اہم شخصیات کے طور پر نامزد کیا گیا۔  جسٹس چودھری نے کہا کہ آپریشنز کو جان بوجھ کر منتشر کیا گیا تاکہ انکار کی گنجائش ہو اور ہر ٹیم کو مکمل پس منظر کا علم نہیں تھا۔

    کمیشن کی سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ RAB کو تحلیل کیا جائے، اس کے اثرات کی وجہ سے جو غیر قانونی قتل، اذیت اور جبر کے تحت گمشدگیوں میں شیخ حسینہ کی قیادت میں شامل ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسپریم کورٹ کے 9 مئی کے مقدمات پر فیصلے پر ایک نظر
    Next Article ماضی کے دریچوں سے تازہ ھوا کا جھونکا ( آوازونہ سرودونہ)
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چین کے سفیر کی ملاقات ،علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    مارچ 2, 2026

    کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ

    مارچ 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام

    مارچ 3, 2026

    حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    مارچ 3, 2026

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان

    مارچ 3, 2026

    پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.