خطے کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں بندوقوں کی گھن گرج کے بعد سفارت کاری کی میز دوبارہ فعال ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے اعلیٰ حکام کی ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے مسائل اب صرف عسکری ذرائع سے نہیں بلکہ مذاکرات اور رابطے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں۔ آپریشن غضب الحق کے بعد یہ پہلا اعلیٰ سطح رابطہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک، تمام تر کشیدگی کے باوجود، مکمل بریک ڈاؤن کی طرف نہیں گئے بلکہ رابطے کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
افغان سرحد سے ہونے والی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ خطے میں امن ہمیشہ نازک توازن پر کھڑا ہے۔ ایسے میں سہ فریقی میکنزم کے تحت چین کی موجودگی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے، جو نہ صرف اقتصادی بلکہ سفارتی سطح پر بھی خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ بڑے تنازعات میں جب براہِ راست اعتماد کمزور پڑ جائے تو تیسرے فریق کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ چین کی میزبانی میں یہ ملاقات اسی سفارتی خلا کو پر کرنے کی ایک کوشش ہے، جہاں فریقین براہِ راست بات چیت کے ذریعے اپنے تحفظات سامنے رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی صرف ردعمل تک محدود نہیں بلکہ خطے میں فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے باوجود رابطے کی بحالی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکمل تنہائی یا بند دروازوں کی سیاست کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔
دوسری طرف، افغانستان کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے کہ وہ اپنی داخلی و سرحدی سلامتی کے تناظر میں خطے کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ جبکہ چین کا کردار ایک ایسے ثالث کا ہے جو معاشی استحکام اور علاقائی رابطے کے بڑے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔
یہ ملاقات کسی فوری حل کی ضمانت نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ خطے کے مسائل اب مکمل ٹکراؤ کے بجائے محدود مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سفارت کاری کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔
آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ رابطہ صرف ایک وقتی سفارتی سرگرمی تھا یا واقعی کسی بڑے فریم ورک کی بنیاد ہے جس سے خطے میں دیرپا استحکام کی راہیں نکل سکتی ہیں۔

