Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ، خواجہ سرا قتل
    • اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مذاکرات اور تعلقات کی بہتری کیلئے تیار ہوں،فیلڈ مارشل سے ضرور ملوں گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی منظوری دیدی
    • نیا سال، نئی زندگی نہیں بہتر زندگی کا روڈ میپ
    • تنخواہیں، پنشن اور بدانتظامی: پشاور یونیورسٹی بحران کے دہانے پر
    • سوات سرینا ہوٹل کا سفر اختتام پذیر، نئی بحث چھڑ گئی
    • ڈیجیٹل دہشتگردی کیس میں عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید،معید پیرزادہ، شاہین صہبائی کو قید کی سزائیں
    • افغانستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے 17 افراد جاں بحق، 11 زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی مہم میں مصنوعی ذہانت کو کس طرح استعمال کر رہی ہیں
    فیچرڈ

    سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی مہم میں مصنوعی ذہانت کو کس طرح استعمال کر رہی ہیں

    فروری 2, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How political parties are using artificial intelligence in their political campaigns
    Share
    Facebook Twitter Email

    جدید ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبے میں قابل قدر تبدیلیاں لے کر آئی ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت سیاسی مہم کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے، جس نے تقریر اور ترسیل سمیت مختلف پہلوؤں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان پاکستان میں تحریک انصاف وہ پہلی سیاسی پارٹی ہے جس نے مصنوعی ذہانت کو انتہائی چابکدستی سے استعمال کیا ہے اور آئندہ بھی اپنی مہم کے لیے اسی پر انحصار کیے ہوئے ہے۔

    پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے اپنے وکلا کو فراہم کردہ نوٹس کو تقریر کی شکل دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ ٹک ٹاک پر ڈیجیٹل ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جب کہ عمران خان کے فیس بک پیج پر موجود چیٹ بوٹ آٹھ فروری کو عام انتخابات کے امیدواروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی تقاریر بھی پی ٹی آئی کی مہم کالازمی حصہ ہیں۔

    آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو سیاسی مہمات میں کیسے استعمال کیا جاتا ہے:

    تقریری معاونت:

    مصنوعی ذہانت یا AI سے چلنے والے ٹولز بہت سارے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں، بشمول ماضی کی تقاریر، عوامی جذبات، اور رجحان ساز موضوعات، تاکہ سامعین کے ساتھ کلیدی نکات کو سامنے رکھ کر بات کی جا سکے۔ نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کے الگورتھم ایسی تقریریں تیار کرنے میں مدد کرتے ہیں جو امیدوار کے لہجے اور پیغام رسانی کے طریقہ کار کے مطابق ہوں۔

    ذاتی نوعیت کی پیغام رسانی:

    AI الگورتھم مخصوص ڈیموگرافکس یا افراد کے مطابق ذاتی نوعیت کے پیغامات بنانے کے لیے ووٹر کے ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اس سے مواد کی فراہمی میں مدد ملتی ہے جو مختلف ووٹر گروپس کو متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    پیشین گوئی:

    مصنوعی ذہانت کا استعمال ووٹر کے رویے کا تجزیہ کرنے، رجحانات کی پیشن گوئی کرنے اور ووٹرز کی شناخت کے لیے کیا جاتا ہے۔

    سوشل میڈیا کی نگرانی:

    مصنوعی ذہانت کے ٹولز عوامی جذبات کے تجزیے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرتے ہیں اور حاصل شدہ ڈیٹا کو پیغام رسانی اور حکمت عملی کو تیزی سے عملی جامہ پہنانے میں مدد کرتے ہیں۔

    چیٹ بوٹس:

    مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس کو پیغام رسانی کی ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹرز کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بوٹس امیدوار کے موقف کے بارے میں مختلف مسائل، آنے والے واقعات اور پولنگ کے مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

    ڈیپ فیک کا پتہ لگانا:

    جیسے جیسے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ترقی ہو رہی ہے، AI کا استعمال ہیرا پھیری یا جعلی مواد کے پھیلاؤ کا پتہ لگانے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے،اس سے مہم کے دوران پھیلائی جانے والی معلومات کی سالمیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

    تقریر اور بحث کی تیاری:

    AI ٹولز مخالفین کی تقریروں کا تجزیہ کرکے، ممکنہ دلائل کی پیشن گوئی کرکے، اور جوابی نکات فراہم کرکے مباحثوں کی تیاری میں امیدواروں کی مدد کرتے ہیں۔ اس سے امیدواروں کو اپنے پیغام رسانی کو بہتر بنانے اور چیلنجوں کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

    اشتہاراتی مہمات کو بہتر بنانا:

    AI الگورتھم سیاسی اشتہارات کی جگہ اور مواد کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ پارٹی کے پیغامات موثر ترین چینلز کے ذریعے صحیح سامعین تک پہنچیں۔

    جذبات کا تجزیہ:

    AI کو عوامی جذبات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے سیاسی رہنماوئں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ان کی پیغام رسانی کیسے موصول ہو رہی ہے۔

    ڈیٹا سیکورٹی اور ووٹر پروٹیکشن:

    سائبرسیکیوریٹی ایک اہم معاملہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے ا قدامات کرنے میں بہت مدد ملتی ہے جس کا تعلق ڈیٹا کی حفاظت سے ہو۔یہ انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔

    اگرچہ سیاسی مہمات میں مصنوعی ذہانت کی مددسے مخصوص لوگوں تک پہنچنا اور ان تک اپنا پیغام پہنچانا آسان ہوتا ہے تاہم اس ے بہت سے اخلاقی خدشات بھی جنم لیتے ہیں جیسے رازداری کے مسائل اور ہیرا پھیری کے امکانات۔ AI کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرنا سیاسی عمل کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں بہت اہم ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغانستان:القاعدہ کےمزید 8 بڑے تربیتی کیمپ قائم، یو این رپورٹ
    Next Article کین ولیمسن:ٹیسٹ سیریز جنوبی افریقہ کیخلاف کھیلنے کیلئے تیار
    Web Desk

    Related Posts

    اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مذاکرات اور تعلقات کی بہتری کیلئے تیار ہوں،فیلڈ مارشل سے ضرور ملوں گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    جنوری 2, 2026

    وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی منظوری دیدی

    جنوری 2, 2026

    ڈیجیٹل دہشتگردی کیس میں عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید،معید پیرزادہ، شاہین صہبائی کو قید کی سزائیں

    جنوری 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ، خواجہ سرا قتل

    جنوری 2, 2026

    اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مذاکرات اور تعلقات کی بہتری کیلئے تیار ہوں،فیلڈ مارشل سے ضرور ملوں گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    جنوری 2, 2026

    وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی منظوری دیدی

    جنوری 2, 2026

    نیا سال، نئی زندگی نہیں بہتر زندگی کا روڈ میپ

    جنوری 2, 2026

    تنخواہیں، پنشن اور بدانتظامی: پشاور یونیورسٹی بحران کے دہانے پر

    جنوری 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.