Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ڈرونز کے پیچھے کا ڈرامہ: بھارت کی میڈیا جنگ یا عسکری کامیابی؟
    اہم خبریں مئی 9, 2025

    ڈرونز کے پیچھے کا ڈرامہ: بھارت کی میڈیا جنگ یا عسکری کامیابی؟

    Facebook Twitter Email
    India’s Drone Incursions: A Media Spectacle, Not a Military Victory
    Pakistan’s Measured Response to India’s Provocations Shows Strength, Not Fear
    Share
    Facebook Twitter Email

    بھارت کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان میں کی جانے والی ڈرون دراندازیاں بظاہر عسکری سرگرمیوں کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان حملوں کا مقصد کوئی جنگی کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ میڈیا پر ڈرامائی مناظر کے ذریعے ایک نفسیاتی جنگ چھیڑنا ہے، جس کا ہدف پاکستانی عوام کی رائے، اعتماد اور جذبات پر اثر انداز ہونا ہے۔ یہ کارروائیاں محدود صلاحیت کے حامل اسرائیلی ساختہ ڈرونز کے ذریعے کی جاتی ہیں، جن میں نہ تو طویل پرواز کی استطاعت ہے اور نہ ہی خاطر خواہ ہتھیار لے جانے کی صلاحیت۔ ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2023 اور 2024 کے دوران ہونے والی 22 میں سے 95 فیصد دراندازیاں یا تو بروقت ناکام بنا دی گئیں یا مکمل طور پر جام کر دی گئیں۔

    بھارت کی جانب سے یہ حملے نہ صرف عسکری لحاظ سے غیر مؤثر ہیں بلکہ عالمی قوانین، خاص طور پر جنیوا کنونشن، کی کھلی خلاف ورزی بھی ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہری مراکز اور آزاد کشمیر کے غیر فوجی علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اس کا مقصد خطے میں مزید بدامنی اور بے یقینی کو ہوا دینا ہے۔ بھارت کی یہ روش اس کی مقبوضہ کشمیر میں جاری پالیسیوں کا تسلسل ہے، جہاں 1989 سے اب تک 90 ہزار سے زائد بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں۔

    7 مئی کو پاکستان کی طرف سے دیا گیا جواب نہ صرف ایک طاقتور عسکری اقدام تھا بلکہ اس میں بردباری، حکمت اور بین الاقوامی ذمہ داری کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ اشتعال انگیزی کا شکار ہونے کے بجائے، اپنے وقت اور طریقے کے مطابق قانونی، اخلاقی اور عسکری طور پر مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا یہ طرزِ عمل خوف یا کمزوری نہیں بلکہ ایک جوہری طاقت کے طور پر اس کی سنجیدہ اسٹریٹجک سوچ اور پرامن ترجیحات کا مظہر ہے۔ خطے میں 300 سے زائد ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں عقل مندی اسی میں ہے کہ کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے اسے سنبھالا جائے۔

    بھارت کی کوشش ہے کہ وہ عوام میں احساس عدم تحفظ اور افواج پر شکوک و شبہات پیدا کرے۔ اسی سلسلے میں 7 اور 8 مئی کی درمیانی رات بھارت نے اپنی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ بھارت نے امرتسر میں پرتھوی میزائل کا ملبہ گرا کر الزام پاکستان پر عائد کرنے کی ناکام کوشش کی، جو درحقیقت سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کی ایک مذموم سازش تھی۔

    یہ تمام کارروائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ بھارت کی جنگی حکمت عملی اب براہِ راست محاذ پر لڑنے کے بجائے نفسیاتی اور غیر روایتی میدانوں میں منتقل ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے 20 سے زائد ڈرون حملے کیے، جن کا مقصد روایتی جنگ کے خطرات سے بچتے ہوئے دور سے حملے کر کے مقامی سطح پر خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا تھا۔ تاہم، پاکستان نے 7 مئی کو جس انداز میں عسکری مہارت، نظم و ضبط اور دور اندیشی سے جواب دیا، اس سے یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کی عسکری حکمت عملی وقتی ردعمل پر مبنی نہیں، بلکہ ایک دیرپا توازن، قانونی جواز اور بھرپور تیاری پر استوار ہے۔

    پاکستان کی یہ جوابی کارروائی کسی طور پر محض علامتی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل، موثر اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی عسکری کاروائی تھی۔ آنے والے دنوں میں اگر بھارت کی جانب سے اسی قسم کی اشتعال انگیزیاں جاری رہیں، تو پاکستان کا جواب بھی نہ صرف قانونی ہوگا بلکہ حد بندی سے ماورا، غیر معمولی دقت اور قوت کا حامل ہو گا۔

    ایسے حالات میں پوری قوم کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ افواج پاکستان کو مکمل اعتماد، حمایت اور اخلاقی پشتیبانی حاصل رہے۔ بھارت کی نفسیاتی جنگ کو صرف اسی وقت شکست دی جا سکتی ہے جب قوم ایک صف میں کھڑی ہو، ہوش مندی اور حقیقت پسندی کو اپنا شعار بنائے، اور افواجِ پاکستان کے ساتھ بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کرے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبھارتی جارحیت کے باوجود آپریشن سندور کی ناکامی
    Next Article بھارت کی سائبر دہشتگردی پر پاکستانی ہیکرز کا جوابی وار، چار بڑی بھارتی ویب سائٹس ہیک
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.