Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, ستمبر 26, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نقیب اللہ قتل کیس: عدم شواہد کی بناء پر ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکار بری
    • خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی قرار، آئی جی کو مراسلہ ارسال
    • پی ٹی آئی نے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک موخر کرنے کا اعلان کردیا
    • پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا پولیس کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی، گورنر فیصل کریم کنڈی
    • ایس آئی ایف سی کا سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو نظام متعارف
    • وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کاروباری وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی انٹیگوا و باربوڈا کے وزیر خارجہ سے ملاقات، تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
    • چمن سیکٹر پر افغانستان کی جانب سے جارحیت کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کو چین، پاکستان اور بنگلہ دیش سے خطرہ
    بلاگ جولائی 10, 2025

    بھارت کو چین، پاکستان اور بنگلہ دیش سے خطرہ

    Facebook Twitter Email
    The Growing Alliance of China, Pakistan, and Bangladesh: A Rising Strategic Challenge
    India Faces Rising Regional Tensions as Pakistan, China, and Bangladesh Strengthen Ties
    Share
    Facebook Twitter Email

    چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتا ہوا اتحاد جنوبی ایشیا کے جغرافیائی منظرنامے میں ایک نئی حقیقت کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں فروغ لارہا ہے بلکہ سکیورٹی کے شعبے میں بھی ایک نئی تحریک کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی یہ پوزیشن، جو کہ اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے، چین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قوت کو ایک مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے۔

    انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور سکیورٹی موجودگی کی طرف اشارہ کیا ہے جو بحر ہند میں بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ چین کی روابط کی مضبوطی اس بات کا اشارہ ہے کہ انڈیا کے لیے تین محاذوں پر جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

    چین نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات میں اضافہ کیا ہے بلکہ بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکمت عملی کا چین کی جانب جھکاؤ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی و دفاعی تعاون کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

    پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے ایک سٹریٹجک اہمیت فراہم کرتی ہے جو عالمی طاقتوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی پختگی اور افغانستان، ایران و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اس کے سرحدی تعلقات پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں موجود نایاب زمینی معدنیات عالمی مارکیٹ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن چکی ہیں، جس کا فائدہ چین اور دیگر ممالک اٹھا رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا انڈیا کے لیے ایک نیا چیلنج پیش کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے قیادت میں اس ملک نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک توازن قائم کیا ہے، جس سے بھارت کی جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے خاتمے کا امکان بڑھا ہے۔ اس تبدیلی کا ایک بڑا حصہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی و سکیورٹی قوت میں مضمر ہے۔

    پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں چین کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کا آغاز، دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی دفاعی دوستی کا مظہر ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف اقتصادی بلکہ سکیورٹی کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں۔ ان تعلقات میں مزید گہرائی لانے سے نہ صرف پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ اس کے دفاعی محاذ کو بھی مضبوطی ملے گی۔

    انڈیا کے لیے یہ حالات کسی طور خوش آئند نہیں ہیں۔ اگرچہ انڈیا کی دفاعی حکمت عملی میں چین اور پاکستان کو الگ الگ محاذوں پر دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی، اب یہ حقیقت بن چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا اتحاد اور بنگلہ دیش کی شمولیت انڈیا کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ انڈیا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا یہ ابھرتا ہوا اتحاد اس کے لیے ایک نیا جغرافیائی چیلنج ہے، جو مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کی اس نئی پوزیشن اور اس کی عالمی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری، انڈیا کے لیے ایک سٹرٹیجک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا عالمی سطح پر مضبوط مقام اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات کی گہری نوعیت بھارت کے لیے ایک چیلنج بنتی جارہی ہے۔ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کو نیا زاویہ دینا ہوگا تاکہ اس نئے منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخودمختار ساوی کے زیرِ اہتمام انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مکالمے، ترقی اور جامع قیادت پر تاریخی سیمینار
    Next Article وزیر اعظم شہبازشریف نے نیشنل ٹیرف کمیشن کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو کی ہدایت کردی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نقیب اللہ قتل کیس: عدم شواہد کی بناء پر ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکار بری

    ستمبر 26, 2026

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی قرار، آئی جی کو مراسلہ ارسال

    ستمبر 26, 2026

    پی ٹی آئی نے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک موخر کرنے کا اعلان کردیا

    ستمبر 25, 2026

    پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا پولیس کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی، گورنر فیصل کریم کنڈی

    ستمبر 25, 2026

    ایس آئی ایف سی کا سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو نظام متعارف

    ستمبر 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.