Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کو چین، پاکستان اور بنگلہ دیش سے خطرہ
    بلاگ جولائی 10, 2025

    بھارت کو چین، پاکستان اور بنگلہ دیش سے خطرہ

    Facebook Twitter Email
    The Growing Alliance of China, Pakistan, and Bangladesh: A Rising Strategic Challenge
    India Faces Rising Regional Tensions as Pakistan, China, and Bangladesh Strengthen Ties
    Share
    Facebook Twitter Email

    چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتا ہوا اتحاد جنوبی ایشیا کے جغرافیائی منظرنامے میں ایک نئی حقیقت کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں فروغ لارہا ہے بلکہ سکیورٹی کے شعبے میں بھی ایک نئی تحریک کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی یہ پوزیشن، جو کہ اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے، چین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قوت کو ایک مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے۔

    انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور سکیورٹی موجودگی کی طرف اشارہ کیا ہے جو بحر ہند میں بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ چین کی روابط کی مضبوطی اس بات کا اشارہ ہے کہ انڈیا کے لیے تین محاذوں پر جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

    چین نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات میں اضافہ کیا ہے بلکہ بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکمت عملی کا چین کی جانب جھکاؤ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی و دفاعی تعاون کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

    پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے ایک سٹریٹجک اہمیت فراہم کرتی ہے جو عالمی طاقتوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی پختگی اور افغانستان، ایران و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اس کے سرحدی تعلقات پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں موجود نایاب زمینی معدنیات عالمی مارکیٹ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن چکی ہیں، جس کا فائدہ چین اور دیگر ممالک اٹھا رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا انڈیا کے لیے ایک نیا چیلنج پیش کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے قیادت میں اس ملک نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک توازن قائم کیا ہے، جس سے بھارت کی جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے خاتمے کا امکان بڑھا ہے۔ اس تبدیلی کا ایک بڑا حصہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی و سکیورٹی قوت میں مضمر ہے۔

    پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں چین کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کا آغاز، دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی دفاعی دوستی کا مظہر ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف اقتصادی بلکہ سکیورٹی کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں۔ ان تعلقات میں مزید گہرائی لانے سے نہ صرف پاکستان کو فائدہ ہوگا بلکہ اس کے دفاعی محاذ کو بھی مضبوطی ملے گی۔

    انڈیا کے لیے یہ حالات کسی طور خوش آئند نہیں ہیں۔ اگرچہ انڈیا کی دفاعی حکمت عملی میں چین اور پاکستان کو الگ الگ محاذوں پر دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی، اب یہ حقیقت بن چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا اتحاد اور بنگلہ دیش کی شمولیت انڈیا کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ انڈیا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا یہ ابھرتا ہوا اتحاد اس کے لیے ایک نیا جغرافیائی چیلنج ہے، جو مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کی اس نئی پوزیشن اور اس کی عالمی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری، انڈیا کے لیے ایک سٹرٹیجک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا عالمی سطح پر مضبوط مقام اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات کی گہری نوعیت بھارت کے لیے ایک چیلنج بنتی جارہی ہے۔ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کو نیا زاویہ دینا ہوگا تاکہ اس نئے منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخودمختار ساوی کے زیرِ اہتمام انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مکالمے، ترقی اور جامع قیادت پر تاریخی سیمینار
    Next Article وزیر اعظم شہبازشریف نے نیشنل ٹیرف کمیشن کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو کی ہدایت کردی
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.