انسداد دہشتگردی عدالت کراچی نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں عدم شواہد کی بنیاد پر 7 ملزمان کو بری کر دیا، اس کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جا چکا ہے ۔
کراچی: نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کراچی میں ہوئی، عدالت نے عدم شواہد کی بناء پر شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت سمیت 7 ملزمان کو بری کر دیا ۔
دیگر بری ہونے والے ملزمان میں گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں،ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا گرفتار پولیس اہلکاروں کےخلاف ایک بھی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ مقابلہ جعلی تھا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جا چکا ہے، سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے، ساتوں مفرور ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد سرینڈر کیا تھا ۔
یاد رہے کہ نقیب اللہ کو جنوری 2018 میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا، کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن/عثمان خاصخیلی گوٹھ میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس کارروائی کے دوران نقیب اللہ سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ مسلح افراد کے ساتھ مقابلہ تھا، 24 جنوری 2019ء کو انسداد دہشتگردی عدالت نے نقیب اللہ اور تین دوسرے مقتولین کو معصوم قرار دیا ۔
نقیب اللہ محسود جن کا شناختی کارڈ پر نام نسیم اللہ درج تھا، اس کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا اور کراچی میں کاروبار کرتے تھے۔، وہ ماڈلنگ کا شوق بھی رکھتے تھے، قتل کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 سال تھی ۔

