اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
بدھ, جولائی 22, 2026
بریکنگ نیوز
- پاکستان اور ویسٹ انڈیز الیون کا چار روزه پریکٹس میچ بغیر نتیجے ختم
- پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو خطرہ قومی سلامتی کے خلاف خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان نے حوثیوں کو خبردار کر دیا
- بلوچستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 خواتین خودکش حملہ آور گرفتار، 10 دہشت گرد ہلاک
- آج اور کل خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ
- فتنہ الخوارج کی سہولتکاری میں ملوث خود ساختہ مفتی ظفریاب گرفتار
- منیلا: اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ کی ملاقات، باہمی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزيد اضافہ کردیا گیا
- کوئٹہ میں خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی پیدائش، اہلخانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

