اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
منگل, اگست 11, 2026
بریکنگ نیوز
- بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
- پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
- راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
- بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
- اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا
- حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے، وزیراعظم شہبازشریف
- بنوں: ایک اور پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا شکار، تین روز میں 3 اہلکار شہید
- پشاور ہائی کورٹ کا دو افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روکنے کا حکم

