اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
منگل, ستمبر 1, 2026
بریکنگ نیوز
- پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے
- استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
- سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
- عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
- سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
- پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
- بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
- وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

