اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
ہفتہ, مئی 2, 2026
بریکنگ نیوز
- پاکستان کویت تعلقات: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، امن و استحکام پر زور
- پاک افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کا عکاس نہیں: دفتر خارجہ
- معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
- طالبان مخالف جذبات میں شدت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے طالبان رجیم سے نجات دلانے کی اپیل
- پاکستان-ازبکستان تعاون: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک گورنر کی ملاقات، تجارت بڑھانے پر اتفاق
- ٹیکسلا میں ویساک ڈے 2026 کی مرکزی تقریب منعقد، عالمی رہنماؤں کی شرکت، امن، رواداری اور بدھ مت ورثے کے فروغ کا پیغام
- افغان جارحیت کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، قبائلی عمائدین کا مشترکہ اعلامیہ
- پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن بھی جاری

