اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
پیر, مئی 18, 2026
بریکنگ نیوز
- خیبر نیٹ ورک اور اقراء یونیورسٹی کا میڈیا انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اہم مشاورتی اجلاس، ‘ایٹم’ (ATOM) کونسل کے قیام پر اتفاق
- پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت
- جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن
- نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال
- وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی
- ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز ہوگیا
- حج 2026: پاکستانی حجاج کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، سردار محمد یوسف
- وزیراعظم کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کا جائزہ

