اسلام آباد میں منعقدہ ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہم بات یہ رہی کہ پاکستان نے انتہائی بھرپور، مخلصانہ اور نہایت پیشہ ورانہ کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں فریقین کو دہائیوں بعد ایک میز پر بٹھایا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں یہ سفارتی کوششیں ہوئیں، جب کہ وزیرِ خارجہ کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا۔
31 گھنٹے تک مسلسل سفارتکاری جاری رہی، جس میں متعدد نشستیں شامل تھیں۔ ان مزاکرات میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے، تاہم یہ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع ہے جس میں کئی اختلافات اور بیرونی عناصر و رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔
جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ دونوں فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے عالمی و علاقائی امن کے لیے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان میں بھی امید کی جھلک موجود ہے، جہاں انہوں نے ثالثی کے دوران دی گئی پیشکش کا ذکر کیا۔
دونوں فریقین اب ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اور اب آگے کا راستہ اسی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا پاکستان کا کام نہیں، کیوں کہ یہ معاملہ رازداری سے جڑا ہے اور پاکستان کا کردار صرف ثالثی تک محدود تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک شاندار اور تاریخی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
منگل, ستمبر 22, 2026
بریکنگ نیوز
- بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
- کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
- پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
- آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
- وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
- بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
- پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
- جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

