Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    • پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » اسرائیلی حملے میں ایران کے یورینیم افزودگی پلانٹ کو شدید نقصان
    اہم خبریں

    اسرائیلی حملے میں ایران کے یورینیم افزودگی پلانٹ کو شدید نقصان

    جون 18, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں سینٹری فیوجز بنانے اور اسلحہ تیار کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، بی بی سی نے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

    سینٹری فیوجز وہ مشینیں ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتی ہیں۔ افزودہ یورینیم نہ صرف ایٹمی توانائی کے حصول بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

    نطنز، جو کہ ایران میں یورینیم افزودگی کا سب سے اہم مرکز ہے، تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ پلانٹ فروری 2007 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔

    یہ تنصیب تین بڑی زیرِ زمین عمارتوں پر مشتمل ہے، جنہیں 50,000 سینٹری فیوجز چلانے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس وقت وہاں تقریباً 14,000 سینٹری فیوجز نصب ہیں، جن میں سے 11,000 سے زائد مشینیں کام کر رہی ہیں تاکہ یورینیم کو مخصوص حد تک صاف کیا جا سکے۔

    عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا کہ نطنز میں قائم زیر زمین یورینیم افزودگی پلانٹ میں موجود سینٹری فیوجز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اگر مکمل طور پر تباہ نہ بھی ہوئے ہوں، تو بھی انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ایران کی ایٹمی صلاحیت میں زیرِ زمین خفیہ عمارتیں، جوہری تنصیبات اور یورینیم کی کانیں شامل ہیں، جو اسرائیل اور مغربی طاقتوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکہ کے شامل ہونے کا امکان
    Next Article فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات آج طے
    Web Desk

    Related Posts

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے

    مارچ 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال

    مارچ 4, 2026

    رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان

    مارچ 4, 2026

    امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.