Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں سمیت 30 افراد جاں بحق
    • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
    • گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا
    • پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا
    • صوبے کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھا، بلاول بھٹو
    • وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
    • خیبرپختونخوا میں سابق وزراء سے سرکاری گاڑیاں واپس نہ لینے کا انکشاف
    • پاکستان کا مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح 2.6 فیصد پر آ گیا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیا پختونوں کے ٹیکسوں کے پیسے صرف پی ٹی آئی کارکنوں کیلئے ہیں؟گورنر فیصل کریم کنڈی
    خیبرپختونخوا دسمبر 7, 2024

    کیا پختونوں کے ٹیکسوں کے پیسے صرف پی ٹی آئی کارکنوں کیلئے ہیں؟گورنر فیصل کریم کنڈی

    Facebook Twitter Email
    Is public tax money only for PTI workers? Governor Faisal Karim Kundi
    خیبرپختونخوا حکومت اسلام آباد میں آگ لگانے کی بجائے صوبے میں لگی آگ کو بجھائے،فیصل کریم کنڈی
    Share
    Facebook Twitter Email

    مردان میں تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کیا خٰبرپختونخوا کے عوام کے ٹیکسوں کے پییسے صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کیلئے ہیں؟ کیا صوبے میں شہید ہونے والے دیگر لوگوں کے ورثا کو بھی ایک ایک کروڑ روپے ملیں گے؟

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن اور دیگر اہم مسائل کیلئے کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی لیکن صوبائی حکومت نے شرکت نہیں  کی ،اے پی سی کے اعلامیہ میں 14 میں سے 11 نکات صرف صوبے سے متعلق تھے ۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو صوبے کی کوئی فکر نہیں ہے اور ہر وقت اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرتے ہیں ۔

    گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈی چوک میں احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثا کو ایک ایک کروڑ روپے دے رہے ہیں لیکن کرم میں جاں فسادات کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی ان کو کوئی فکر نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ آپس میں رشتہ داری ضرور نبھائیں لیکن صوبے کے عوام کے مسائل پر بھی اپنی توجہ دیں ،بارود کی خریداریسے زیادہ اہم صوبے کے لوگوں کے حالات پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے ۔

    ایک سوال کے جواب میں گورنر کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ڈی چوک میں پختونوں کو چھوڑ کر بھاگ گئیں تھیں، خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اسلام آباد میں آگ لگانے کی بجائے صوبے میں لگی آگ کو بجھائے۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleانٹرنیٹ کی سست روی، خیبرپختونخوا کے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا
    Next Article صوابی میں گاڑی پر فائرنگ ،خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ، بچی زخمی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں سمیت 30 افراد جاں بحق

    اکتوبر 15, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا

    اکتوبر 14, 2026

    صوبے کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھا، بلاول بھٹو

    اکتوبر 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 28 بچوں سمیت 30 افراد جاں بحق

    اکتوبر 15, 2026

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

    اکتوبر 14, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کی توثیق، صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا

    اکتوبر 14, 2026

    پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا

    اکتوبر 14, 2026

    صوبے کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھا، بلاول بھٹو

    اکتوبر 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.