Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مارچ 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی
    • امریکی صدر کا ایران کی 48 اہم شخصیات کو شہید کرنے کا دعویٰ
    • پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
    • امریکہ اور اسرائیل کا مشترکا حملہ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید
    • موجودہ صورتحال کے پیش نظر جامع اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، وزيراعظم کی ہدایت
    • ٹی 20 ورلڈکپ اہم میچ: سری لنکا کو شکست دے کر بھی قومی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی
    • وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ، ایران پر اسرائیلی حملے سے کشیدگی اور بعض خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا کو ہم برسوں سے پاکستان کی “فرنٹ لائن” کہہ کر یاد کرتے آئے ہیں۔ یہ تعبیر اپنی جگہ درست بھی ہے، کیونکہ اس خطے نے قومی سلامتی کے تناظر میں غیر معمولی بوجھ اٹھایا، اور آزمائشوں میں ثابت قدمی دکھائی مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ “فرنٹ لائن” کا لفظ اکثر ہماری اجتماعی سوچ کو ایک ہی رخ پر جما دیتا ہے یوں جیسے اس صوبے کے بارے میں گفتگو کا دائرہ صرف دباؤ، خطرات اور قربانی تک محدود ہو حالانکہ خطے کی سیاست اور معیشت کے بدلتے منظرنامے میں خیبر پختونخوا کا کردار صرف دفاعی نہیں، بلکہ تعمیری بھی ہو سکتا ہے۔

    اسی نقطۂ نظر کو گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے زیرِاہتمام پالیسی ڈائیلاگ میں بطور چیف گیسٹ اپنے خطاب میں واضح انداز میں سامنے رکھا۔ انہوں نے IRS کی کاوش کو سراہا کہ وہ ایسے مباحث کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو پاکستان کے علاقائی مستقبل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں، اور انہوں نے صدرِ IRS سفیر جوہر سلیم کی قیادت کو بھی اس پہلو سے قابلِ قدر قرار دیا کہ یہ پلیٹ فارم حکومت، اکیڈمیا، میڈیا اور نجی شعبے کو ایک دوسرے کے ساتھ “اکٹھا سوچنے” کے قابل بناتا ہے۔ یہ ایک اہم بات ہے، کیونکہ پالیسی کی پختگی اکثر اسی جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں مختلف زاویہ ہائے نظر ایک ہی میز پر بیٹھ کر مسئلے کو مکمل تصویر کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

    گورنر کنڈی کا مرکزی مقدمہ یہ تھا کہ آج کی بحث محض تجارت کے اعداد یا وقتی تعطل تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان بدلتے ہوئے خطے میں خود کو کیسے دیکھتا ہے، اور اپنی جغرافیائی حیثیت کو کس طرح ایک قابلِ عمل معاشی فائدے میں تبدیل کرتا ہے۔ مغربی سرحد کو عموماً ایک چیلنج کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے ہمیں آزمایا بھی ہے لیکن گورنر کے مطابق فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے صرف چیلنج ہی رہنے دیں گے یا اسے ایک موقع میں ڈھالیں گے۔ اسی استدلال کے تحت انہوں نے خیبر پختونخوا کو محض ایک “فرنٹ لائن” نہیں بلکہ “خطوں کے درمیان پل”، “منڈیوں کا کنیکٹر” اور “علاقائی تجارت کا ممکنہ انجن” قرار دیا۔ یہ تعبیر، اگر غور سے دیکھی جائے، ایک بڑی پالیسی سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے: ریاستیں صرف سرحدوں کی حفاظت سے مضبوط نہیں بنتیں؛ وہ سرحدوں کو کارآمد بنا کر مضبوط ہوتی ہیں۔

    اسی گفتگو میں گورنر کنڈی نے ایک ایسا جملہ کہا جو دراصل پورے مباحثے کی کلید ہے: “سکیورٹی بنیادی ہے، مگر محفوظ سرحد کو فعال سرحد بھی ہونا چاہیے؛ محفوظ فرنٹیئر کو پیداواری فرنٹیئر بھی بننا چاہیے۔” اس میں کوئی ابہام نہیں کہ سلامتی کے تقاضے بنیادی ہیں۔ تاہم عملی دنیا میں سلامتی کے فیصلوں کا اثر صرف بارڈر پوسٹ تک محدود نہیں رہتا؛ وہ معیشت، معاشرت اور ریاستی ساکھ تک پھیلتا ہے۔ اسی لیے “فعال سرحد” کا تصور محض تجارت کی سہولت نہیں، بلکہ نظمِ حکمرانی کی ایک شکل ہے—ایسی شکل جو خطرات کے باوجود زندگی اور معیشت کے بہاؤ کو ممکن بنائے۔ گورنر کنڈی نے اسی بات کو جدید ریاست کی کامیابی کے اصول کے طور پر بیان کیا: جدید ریاستیں صرف territory defend کر کے نہیں، اپنے جغرافیے کو activate کر کے کامیاب ہوتی ہیں۔ پاکستان کا جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان واقع ہونا، ان کے مطابق، حادثہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک advantage ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس advantage کو prosperity میں بدلنے کی vision اور discipline رکھتے ہیں۔

    یہاں گورنر کی گفتگو منڈی اور سرمایہ کاری کی اس منطق سے جڑتی ہے جسے وہ تین مختصر فقروں میں سمیٹ دیتے ہیں: “Markets respond to reliability. Investors respond to clarity. Traders respond to consistency.” ان تینوں باتوں کا مفہوم یہ ہے کہ تجارت صرف راستے کی دوری یا قربت نہیں دیکھتی؛ وہ وقت، لاگت، قواعد اور فیصلہ سازی کے تسلسل کو دیکھتی ہے۔ اگر سرحدی گزرگاہیں غیر یقینی طور پر کھلیں اور بند ہوں، اگر ایک فیصلے سے سپلائی چین رُک جائے، تو کاروبار مجبوراً متبادل راستے تلاش کرتا ہے۔ ابتدا میں یہ تبدیلی محض ایک adjustment لگتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ structural بن سکتی ہے—یعنی نئی روٹ میپنگ، نئے لاجسٹکس فیصلے، نئی عادتیں اور نئی مارکیٹ وابستگیاں۔ گورنر کنڈی نے اسی “structural shift” کے خطرے کی طرف اشارہ کیا، اور یہ بات حقیقتاً پالیسی سازی کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ وقتی جھٹکوں سے نمٹنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر ساختی تبدیلیاں واپس موڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    اس استدلال کو اگر اعداد و شمار کے ساتھ دیکھا جائے تو معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد کے مطابق پاکستان–افغانستان سرحدی راہداری کے ذریعے گزرنے والی تجارت جس میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں (CARs) کے ساتھ پاکستان کی دوطرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ تجارت بھی شامل ہے—2022–23 میں تقریباً 7.5 ارب ڈالر سالانہ تھی، یعنی تقریباً 2 کروڑ 5 لاکھ ڈالر یومیہ۔ مگر 2024–25 میں یہ حجم کم ہو کر 4 ارب ڈالر رہ گیا۔ یہ فرق صرف گراف کی کمی نہیں؛ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عدم استحکام اور بار بار تعطل تجارت کے بہاؤ کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ تجارت کی دنیا میں “غیر یقینی” خود ایک لاگت ہے اور بعض اوقات یہی سب سے بڑی لاگت ثابت ہوتی ہے۔ اگر تاجر کو معلوم نہ ہو کہ کنسائنمنٹ وقت پر پہنچے گی یا نہیں، تو وہ قربت کے فائدے کے باوجود دوسرے راستے کو ترجیح دینے لگتا ہے جہاں کم از کم predictability ہو۔

    اکتوبر 2025 کے واقعات کے بعد یہ مسئلہ مزید نمایاں ہوا۔ بریفنگ کے مطابق 11–12 اکتوبر 2025 کی کشیدگی کے بعد طورخم سمیت کئی اہم کراسنگ پوائنٹس خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن طویل مدت تک بند یا شدید متاثر رہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 ہزار سے زائد ٹرانزٹ کنٹینرز پھنس گئے، اور یہاں تک کہ انسانی ہمدردی کی ترسیلات بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس پہلو کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ جب تجارت کے ساتھ humanitarian flows بھی متاثر ہوں تو معاملہ محض تجارتی انتظامیہ سے بڑھ کر ریاستی capacity اور crisis management کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر بیرونی دنیا یہ دیکھتی ہے کہ ایک ریاست اپنے نظام کو کس طرح operate کرتی ہے: کیا فیصلے واضح ہیں؟ کیا بحران میں ردعمل متوازن ہے؟ کیا نظام جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سفارتی ساکھ اور اقتصادی اعتماد دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    علاقائی سطح پر بھی اعداد و شمار قابلِ توجہ ہیں۔ اکتوبر–نومبر 2025 میں پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت میں 90 فیصد تک کمی رپورٹ ہوئی، اور نقل و حمل کا وقت و لاگت تقریباً 2.5 گنا بڑھنے کا ذکر کیا گیا۔ جب وقت اور لاگت اتنے بڑھ جائیں تو کئی اشیاء کی تجارت محض مہنگی نہیں رہتی بلکہ اقتصادی طور پر غیر قابلِ عمل ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں نقصان کے تخمینے سامنے آئے کہ پاکستان کو سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر جبکہ پورے خطے کو 6 ارب ڈالر سے زائد نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اثرات صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتے؛ زراعت، دواسازی، سیمنٹ، پروسیسڈ فوڈز اور گاڑیوں سمیت متعدد صنعتیں سپلائی چین کی رکاوٹوں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ یوں سرحدی تعطل کا بوجھ صرف بارڈر پر کھڑے ٹرکوں تک نہیں رہتا، وہ اندرونِ ملک قیمتوں، کاروباری فیصلوں اور روزگار کے مواقع تک منتقل ہو جاتا ہے، چاہے خاموشی سے ہی کیوں نہ ہو۔

    یہاں ایک نہایت اہم بات سامنے آتی ہے جسے گورنر کنڈی نے بھی اپنے خطاب میں مثبت انداز میں بیان کیا: اگر غیر یقینی معمول بن جائے تو اقتصادی رویہ اپنی حفاظت کے لیے ڈھل جاتا ہے، لیکن اگر reliability معمول بن جائے تو سرمایہ کاری خود راستہ بناتی ہے۔ یعنی سمت کا انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ گورنر کے مطابق اگر نظام efficient ہوں، اگر confidence بڑھے، اگر تجارت کے فیصلے predictable ہوں تو opportunity multiply کرتی ہے۔ یہ نظری بات نہیں؛ عالمی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ راہداری ریاستوں کی کامیابی کا دارومدار صرف جغرافیے پر نہیں بلکہ اداروں کے تسلسل، قواعد کے استحکام، اور خدمات کے معیار پر ہوتا ہے۔ اسی لیے گورنر نے “episodic management” سے نکل کر “institutionalized coordination” کی ضرورت پر زور دیا—یعنی ایسے انتظامی و پالیسی ڈھانچے جن میں وفاق اور صوبہ، سکیورٹی اور تجارت، اور سرحدی انتظامیہ اور لاجسٹکس ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

    یہاں مناسب ہوگا کہ ہم “ہم آہنگی” کے تصور کو محض ایک خوش آئند نعرہ نہ سمجھیں بلکہ اس کی عملی معنویت کو دیکھیں۔ جب سکیورٹی اور تجارت الگ الگ خانوں میں چلیں تو اکثر فیصلے ایک دوسرے کے اثرات کو پوری طرح جذب نہیں کر پاتے۔ اس کے برعکس جب فیصلہ سازی مشترک اصولوں کے تحت ہو—یعنی خطرات کا ادراک بھی ہو اور اقتصادی بہاؤ کا تسلسل بھی—تو ریاست زیادہ کم خرچ میں زیادہ نظم پیدا کر سکتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے گورنر کنڈی کی یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ transformation کا مطلب صرف بیانیہ بدلنا نہیں؛ transformation کا مطلب وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان coordination مضبوط کرنا، سکیورٹی مینجمنٹ کو اقتصادی foresight کے ساتھ align کرنا، اور انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کرنا ہے تاکہ سرحدی اضلاع vulnerable نہ رہیں بلکہ competitive بنیں۔ اس میں ایک خاموش مگر واضح پیغام یہ بھی ہے کہ بارڈر ڈسٹرکٹس کو صرف “انتظامی ضرورت” کے طور پر نہیں، “معاشی صلاحیت” کے طور پر دیکھنا چاہیے—کیونکہ جب مقامی معیشت مضبوط ہوتی ہے تو سماجی استحکام بھی بہتر ہوتا ہے، اور ریاستی نظم بھی زیادہ پائیدار بنتا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے بارے میں “بیانیہ” کی بات بھی یہاں بہت اہم ہو جاتی ہے۔ گورنر کنڈی کے مطابق ہمیں کے پی کو صرف pressure کی زبان میں نہیں، potential کی زبان میں بھی دیکھنا ہوگا۔ نوجوان آبادی، کاروباری مزاج، اور اسٹریٹجک محلِ وقوع اسے “periphery” نہیں بلکہ “pivot” بنا سکتے ہیں—یعنی وہ مقام جہاں سے ریاست اپنی علاقائی رابطہ کاری کو معنی دے سکتی ہے۔ لیکن pivot بننے کے لیے صرف جغرافیہ کافی نہیں؛ pivot بننے کے لیے پالیسی کا تسلسل، ادارہ جاتی استعداد اور عملی کارکردگی ضروری ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے عالمی سیاست کے مطالعے میں “state capacity” کہا جاتا ہے: آپ کی نیت، آپ کے منصوبے، اور آپ کے نقشے تبھی معتبر ہوتے ہیں جب آپ کے ادارے روزمرہ عمل میں انہیں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی لیے کنیکٹیوٹی کا حقیقی امتحان بڑے اعلانات میں نہیں بلکہ بارڈر پر روزانہ ہونے والے فیصلوں میں ہوتا ہے—کاغذی کارروائی کتنی سادہ ہے، ضوابط کتنے واضح ہیں، تنازعات کیسے حل ہوتے ہیں، اور بحران میں ردعمل کس حد تک متوازن رہتا ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ خطہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ گورنر کنڈی نے اپنے خطاب میں اسی طرف توجہ دلائی کہ corridors بن رہے ہیں، trade routes reimagine ہو رہے ہیں، اور economic alliances shift ہو رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے “کھڑے رہنا” دراصل پیچھے رہ جانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ سرمایہ کار ہمارے راستے منتخب کریں، تو ہمیں predictability اور efficiency دینا ہوگی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ موقع پر یقین کریں، تو coherence اور commitment دکھانا ہوگی۔ ان جملوں میں دراصل ایک نرم مگر واضح ریاستی نصیحت پوشیدہ ہے: پالیسی کا سب سے بڑا حصہ صرف اعلان نہیں، اس اعلان کی پیروی میں روزمرہ نظم ہے۔ اور روزمرہ نظم ہی وہ چیز ہے جو تجارت کے ذہن میں ساکھ بناتی ہے۔

    اسی پس منظر میں “فعال سرحد” کا تصور مزید واضح ہو جاتا ہے۔ فعال سرحد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت سرحد کھلی رہے؛ فعال سرحد کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی اقدامات کیے جائیں وہ قواعد کے تحت ہوں، ان کی ٹائم لائن اور دائرہ کار زیادہ سے زیادہ واضح ہو، اور ان سے پیدا ہونے والے معاشی و انسانی اثرات کو کم سے کم کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ یعنی crisis protocols، institutional coordination، اور فیصلہ سازی کی پیش بینی۔ اس نوعیت کی حکمرانی ہی ریاست کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خطرات سے چشم پوشی کیے بغیر معیشت کی نبض کو چلتا رکھ سکے۔ یہی توازن گورنر کنڈی کے تصورِ “secure but functional border” میں پوشیدہ ہے۔

    آخر میں گورنر کنڈی کے خطاب کی وہ سطر جسے سن کر ہال میں خاموشی بھی محسوس کی جا سکتی تھی اور امید بھی: “مغربی سرحد پاکستان کا کنارہ نہیں؛ پاکستان کا افتتاح ہے۔” یہ محض ادبی جملہ نہیں، ایک پالیسی فریم ہے۔ افتتاح اس وقت بنتا ہے جب وژن عمل سے جڑ جائے، discipline پالیسی ڈیزائن میں ڈھل جائے، اور سکیورٹی opportunity کے خلاف نہیں بلکہ opportunity کے لیے استعمال ہو۔ اگر یہ ربط قائم ہو جائے تو سرحد صرف خطرے کی علامت نہیں رہتی؛ وہ تجارت، سرمایہ کاری، روزگار اور علاقائی اثر و رسوخ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اور اگر یہ ربط کمزور رہے تو خطرہ یہ رہتا ہے کہ غیر یقینی معمول بنے، منڈی اپنے فیصلے بدل دے، اور پھر وہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ساختی صورت اختیار کر لیں۔

    یوں گورنر کنڈی کا پیغام دراصل ایک نرم مگر واضح دعوتِ فکر ہے: خیبر پختونخوا نے اپنی resilience ثابت کی ہے، اب اسے transformation کی طرف بڑھنا ہے—اور یہ transformation محض الفاظ سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، پالیسی کے تسلسل، اور روزمرہ کارکردگی کی قابلِ بھروسہ صورت سے آئے گا۔ اگر ہم مغربی سرحد کو پاکستان کے “کنارے” کے بجائے “افتتاح” کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ اور نظم پیدا کر لیں تو یہی فرنٹیئر ہماری حدود نہیں، ہماری اٹھان کی علامت بھی بن سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی
    Web Desk

    Related Posts

    امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

    مارچ 2, 2026

    امریکی صدر کا ایران کی 48 اہم شخصیات کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مارچ 2, 2026

    پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

    مارچ 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 2, 2026

    امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

    مارچ 2, 2026

    امریکی صدر کا ایران کی 48 اہم شخصیات کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مارچ 2, 2026

    پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

    مارچ 1, 2026

    امریکہ اور اسرائیل کا مشترکا حملہ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید

    مارچ 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.