Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایران اور امریکہ کے درمیان مزید مذاکرات کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
    • فنکاروں کو وزیراعظم صحت کارڈ دیکر بیوقوف بنایا گیا ۔۔ نجیب اللہ انجم
    • امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا
    • عالمی سرفہرست ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں سرمایہ کاری، لائسنس جاری
    • امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان۔ بیک چینل رابطے جاری
    • پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیارہے، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف
    • پاکستان کی جانب سے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش
    • وفاقی وزیر خزانہ کی امریکا میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، 50 لاکھ ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج
    بلاگ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، 50 لاکھ ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج

    مارچ 21, 2026Updated:مارچ 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    total emissions from this sector to be 2.4m tonnes of CO2 equivalent
    جنگ جیت کون رہا ہے؟ بات یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ میں زمین کتنی ہار رہی ہے؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ صرف بارود اور خون تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ زمین، فضا اور پانی کے لیے بھی ایک خاموش مگر ہولناک خطرہ بن چکی ہے، 2024 میں عالمی فوجی اخراجات کا 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ انسان نے ایک بار پھر ہتھیاروں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے، مگر اس دوڑ کی اصل قیمت ماحول ادا کر رہا ہے اور یہ قیمت فوری بھی ہے اور نسلوں تک پھیلنے والی بھی ہے ۔

    یوکرین، غزہ، سوڈان، لبنان اور ایران جیسے خطے اس وقت جنگ اور کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں، مگر ان تنازعات کے اثرات صرف ان جغرافیوں تک محدود نہیں رہتے، بمباری سے تباہ ہونے والے گھر، ہسپتال، بجلی کا نظام، پانی کی فراہمی اور زرعی زمینیں ایک ایسے ماحولیاتی بحران کو جنم دیتی ہیں جس کے اثرات فرنٹ لائن سے بہت دور تک محسوس کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق اب جنگ کو صرف انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی المیہ قرار دے رہی ہے ۔

    حقیقت یہ ہے کہ جنگ زندگی کے ان بنیادی نظاموں کو نشانہ بناتی ہے جو کسی بھی معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں، پانی کی لائنوں، سیوریج نظام، ایندھن کے ذخائر، بندرگاہیں اور زرعی ڈھانچے جب تباہ ہوتے ہیں تو اس کے بعد جو کچھ باقی رہتا ہے وہ زہریلی مٹی، آلودہ ہوا اور غیر محفوظ پانی کی شکل میں سامنے آتا ہے، یہ وہ عوامل ہیں جو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی بیماریوں، قحط اور نقل مکانی کے نئے سلسلے شروع کرتے ہیں ۔

    مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ توانائی کے وسائل اب براہ راست میدانِ جنگ بن چکے ہیں ۔

    ایران پر حملوں اور جوابی کارروائیوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھی بلکہ خلیج فارس جیسے حساس ماحولیاتی نظام پر بھی خطرات منڈلانے لگے، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی موجودگی اور ممکنہ آئل اسپِل کا خدشہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایک حادثہ پورے سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کے حالیہ تجزیے نےجنگ کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کیا ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے، اور وہ ہے کاربن کا اخراج ۔

    اس تحقیق کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ابتدائی دو ہفتوں میں 50 لاکھ ٹن سے زائد گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا،جو دنیا کے درجنوں کم اخراج والے ممالک کے مجموعی اخراج کے برابر ہے، یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ جنگیں موسمیاتی تبدیلی کو کس رفتار سے تیز کر رہی ہیں ۔

    دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس اخراج کا سب سے بڑا حصہ براہِ راست دھماکوں سے نہیں بلکہ تباہ شدہ عمارتوں سے آتا ہے، ہزاروں سویلین ڈھانچوں کی تباہی نہ صرف فوری کاربن پیدا کرتی ہے بلکہ ان کی دوبارہ تعمیر بھی ماحول پر ایک اضافی بوجھ ڈالتی ہے، اس طرح جنگ کا اثر وقتی نہیں بلکہ ایک طویل ماحولیاتی قرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے ۔

    اسی طرح جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور فوجی گاڑیوں کا ایندھن بھی اس تباہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ابتدائی دنوں میں ہی کروڑوں لیٹر ایندھن کا استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی لاکھوں ٹن کاربن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگیں دراصل توانائی کے بے تحاشہ استعمال کا دوسرا نام ہے ۔

    جب تیل کے ذخائر پر حملے ہوتے ہیں اور ریفائنریاں جلتی ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں نہ صرف فضا کو آلودہ کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کرتے ہیں،جیسا کہ تہران میں کالی بارش کے مناظر نے دنیا کو چونکا دیا، یہ پہلو بھی کم اہم نہیں کہ جنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ خود بھی ایک ماحولیاتی بوجھ ہے ۔

    ہزاروں میزائل، ڈرونز اور بم نہ صرف فوری تباہی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان کی تیاری، استعمال اور تباہی سب مل کر کاربن اخراج میں اضافہ کرتے ہیں، یوں جنگ ایک مکمل صنعتی عمل بن جاتی ہے جس کا ہر مرحلہ ماحول کو متاثر کرتا ہے ۔

    اگر اس ساری صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایک حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ تیل اور گیس نہ صرف جنگوں کا ایندھن ہے بلکہ اکثر ان کی بنیادی وجہ بھی یہی وسائل عالمی سیاست میں کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور انہی کے گرد طاقت کا توازن طے ہوتا ہے ۔

    ماہرین کے مطابق جب تک عالمی معیشت کا انحصار ان ذرائع پر رہے گا، اس وقت تک جنگ اور ماحولیاتی بحران ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے ۔

    تاریخ اس کی گواہ ہے، ویتنام میں کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات آج بھی باقی ہیں، خلیجی جنگ میں جلتے تیل کے کنوؤں نے ماحول کو دہائیوں تک متاثر رکھا، اور عراق میں جنگی آلودگی نے صحت کے مسائل کو جنم دیا، یہ تمام مثالیں اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ جنگ کا ماحولیاتی اثر عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کا ہوتا ہے ۔

    اسی تناظر میں ماہرین قابلِ تجدید توانائی کو ایک ممکنہ حل کے طور پر پیش کرتے ہیں، سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ جغرافیائی سیاست کے دباؤ سے بھی نسبتاً آزاد ہے، یہ نظام کسی ایک مقام پر مرکوز نہیں ہوتا، اس لیے انہیں جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔

    جنگ جیت کون رہا ہے؟ بات یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ میں زمین کتنی ہار رہی ہے؟ کیونکہ جب پانی زہریلا ہو جائے، مٹی بنجر ہو جائے اور ہوا سانس لینے کے قابل نہ رہے تو فتح کا تصور بھی بے معنی ہو جاتا ہے، امن کا مطلب صرف ہتھیاروں کی خاموشی نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی بحالی ہے جہاں زندگی ممکن ہو، اگر دنیا نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والے وقت میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پورا سیارہ ان کی لپیٹ میں آ جائے گا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاس ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 150 اور ڈیزل کی قیمت میں 250روپے اضافہ روکاگیا، وزیر اطلاعات
    Next Article وزیراعظم شہبازشریف کا عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد دی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026

    پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات ناکام نہیں بلکہ ایک تزویراتی وقفے کا شکار ہوئے ہیں

    اپریل 13, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایران اور امریکہ کے درمیان مزید مذاکرات کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    اپریل 14, 2026

    فنکاروں کو وزیراعظم صحت کارڈ دیکر بیوقوف بنایا گیا ۔۔ نجیب اللہ انجم

    اپریل 14, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    عالمی سرفہرست ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں سرمایہ کاری، لائسنس جاری

    اپریل 14, 2026

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان۔ بیک چینل رابطے جاری

    اپریل 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.